مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 48 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 48

(۴۸) وقت سب سے بیش قیمت تحفہ ہے جس کا زیاں گناہ سے کم نہ تھا۔ہماری دادی امی بتلایا کرتی تھیں کہ ہمارے والد بچپن سے ہی وقت کی منصوبہ بندی کرنے کے عادی تھے۔یعنی اتنے گھنٹے روزانہ کھیل کیلئے اور اتنے گھنٹے روزانہ مطالعہ کیلئے۔حملہ جب وہ کھیلنے کیلئے جاتے تو اپنے ساتھ گھڑی لے جاتے اور جو نہی کھیل کا معینہ وقت ختم ہوتا تو وہ مطالعہ کیلئے گھر آ جاتے چاہے وہ کھیل کتنا ہی فرحت بخش کیوں نہ ہو ؟ وہ ہمیں اکثر تعلیمی سیر و سیاحت جیسے میوزیم۔انسٹی ٹیوٹس اور تاریخی مقامات کی سیر کرانے کیلئے لے جاتے تھے اتوار کی صبح جب وہ کالج اپنے کام کے سلسلہ میں جاتے تو ہمیں بھی ساتھ لے جاتے بعض دفعہ وہ ہمیں سائینس میوزیم میں اتار دیتے جو امپیرئیل کالج کے بلکل ساتھ واقع ہے۔ایک روز ہماری خوشی اور تعجب کی کوئی انتہا نہ رہی جب انہوں نے ہمیں فلم لارنس آف عربیا دکھانے کا فیصلہ کیا زندگی میں پہلی بار ہم سینما گھر جانے لگے تھے فلم کا ابھی نصف حصہ ختم ہوا تھا کہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وقت کا کافی زیاں ہو گیا ہے اس لئے آئے اب گھر چلیں۔ہماری مایوسی کا کوئی عالم نہ تھا ہم نے ان سے درخواست کہ باقی کی فلم بھی دیکھ لینے دیں بلآ خر وہ مان گئے اس شرط پر کہ وہ خود باہر کار میں جا کر بیٹھ جائیں گے۔جب فلم ختم ہوئی تو ہم نے دیکھا کہ وہ کار کے اندر اپنی تھیوریز میں دنیا و ما فیہا سے کلیتاً بے خبر مصروف کار تھے۔گھر واپس پہنچنے پر ہمیں حکم ہوا کہ اب ہم نے مضمون لکھنا ہے جس میں یہ ذکر ہو کہ ہم نے اس فلم سے کیا سیکھا؟ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ وہ کام میں سے فرصت نکال کر ہمیں رچمینڈ پارک محض کار ڈرائیو یا وہاں پیدل چلنے کیلئے لے جاتے یہ پارک ہمارے گھر کے قریب ہے جس میں فطرت کے مناظر بے تحاشا ہیں۔ایسے مواقع پر ابی ہاتھ سے کوئی ایسا موقعہ نہ جانے دیتے کہ وہ ہمیں کوئی سبق یا اچھی کار آمد بات سمجھا تے۔مثلاً پارک کے اندر ایک رائیڈ میں جو ایک عمودی ڈھلوان پہاڑی سے نیچے جاتی تھی۔آپ کار کا انجن بند کر دیتے اور کار کو رفتہ رفتہ نیچے جانے دیتے۔پھر وہ ہمیں کار کے کیچ Clutch اور گئیرز gears کے بارہ میں بتلاتے کہ وہ کس طرح کام کرتے ہیں۔تاہم یہ جان سکیں کہ کار خود بخود نیچے ڈھلوان پر جا سکتی ہے اگر اس پر گیئرز سے پیدا ہونے والی مزاحمت عمل پذیر نہ ہو اگلی بار جب ہم دوبارہ آتے تو جو سبق