مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 21
(۲۱) حیران رہ جاتا کہ وہ کیسے آسانی سے آنکھیں بند کرتے ہی سو جاتے ہیں۔جہاں کہیں بھی ہوں کار میں، جہاز میں، جب بھی انہیں چند فرصت کے لمحات ملتے وہ سو جاتے۔کام کرنے میں بھی یہی طریق تھا جہاں بھی وقت ملتا وہ نوٹس لکھ لیتے۔جو چیز ملاتی اخبار۔رومال، یا اور کچھ نہیں تو ہاتھ پر ہی اپنے آئیڈیاز تحریر کر لیتے۔ایک دفعہ وہ ملكه برطانيه۔ايلز بيته دوم۔کی دعوت پر لنچ میں شرکت کیلئے قصر بکنگھم گئے لنچ کے بعد جب ملکه چلی گئیں تو ابی جان نے واپس آکر اپنا نیپ کن Napkin مانگ لیا۔ابی جان جہاں بھی ہوتے علی الصبح اٹھ جاتے گھر پر تو وہ صبح ساڑھے تین یا چار بجے جاگتے تھے نوافل ادا کرتے اور پھر چند گھنٹے لگا تار ریسرچ کا کام کرتے۔اس دوران وہ ساتھ کچھ کھا بھی لیتے جو رات کو ہی مہیا کر دیا جاتا تھامثلاً تھر موس میں چائے ، خشک میوہ جات پسکٹ، پنیر، فروٹ جیسے کیلے یا آڑو۔یہ اشیاء مع پانی کے جگ کے بڑے میں رات کو رکھ دی جاتیں۔لندن اور ٹریسٹ میں یہ عمل با قاعدہ جاری رہتا پھر غسل کرتے تیار ہوتے اور دل بھر کر ناشتہ کرتے۔مجھے یاد ہے سات بجے کے قریب جب وہ ہمیں گھر کے اوپر والے حصہ میں دیکھنے آتے تو ان کے بھاری قدموں کی چاپ ہم سن لیتے اور چھلانگ لگا کر بستر سے اٹھ جاتے اور کوشش کرتے کہ ایسے لگے جیسے نیند سے بیدار ہو چکے تھے۔اچھے کپڑوں کا شوق شروع شروع میں ناشتہ بیف سا بیج Beef Sausage ، انڈے اور Smoked Haddock مچھلی پر مشتمل ہوتا تھا بعد ازاں فش فنگر ز بھی پسند تھیں۔پھر کچھ عرصہ Muesll Cereal بھی کھایا اور آخر عمر میں فش فنگر ز پسند کرتے رہے۔کئی ایک قسم کے سنیک مختلف وقتوں میں پسند کئے جن کا انحصار کام کی نوعیت پر ہوتا تھا انہیں آم کا میٹھا اچار کیمپ کافی ہمیسلی سیرئیل، ڈائی جیسٹواسکٹ، چاکلیٹ اور پاکستانی مٹھائی پسند رہیں۔میٹھا بہت ہی پسند تھا کہتے تھے مجھے اس سے کام میں انرجی ملتی ہے، جب بھی سفر کرتے کئی قسم کی میٹھی اشیاء بسکٹ، اور خشک پھل اپنے بیگ میں ساتھ رکھ لیتے اور سفر میں کھاتے جاتے اگر تھیلا خالی ہو