مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 20
(۲۰) روانہ ہو جاتے ہاں اگر کوئی ملنا چاہتا تو رک کر بات ضرور کرتے ، مشورہ دیتے یا خوشنودی کا اظہار کرتے لیکن پھر جلد روانہ ہو جاتے انہیں قطعاً پسند نہ تھا کہ بیٹھک لگائی جائے گئیں لگانا اور غیبت کرنا انہیں سخت ناپسند تھا وقت کبھی ضائع نہ کرو، انسان کا ہر لحہ کسی نہ کسی چینی کاوش میں استعمال ہونا چاہئے۔ابی کے لئے باتھ روم بھی علمی تفکر کی جگہ تھی آنے والے مهمان همارے باتھ رومز کی لائیبریری دیکھ کر حیران ھوتے - ، لندن، آکسفورڈ، اور ٹریسٹ میں ان باتھ رومز میں ہکسلے داغ ،دهلوی ووڈ ہاؤس کی کتابوں سے لیکر نیوسائینٹسٹ، فزکس ٹوٹے، اور اکانومسٹ رسالے موجود ھوتے تھے۔وقت کو سب سے بڑی نعمت سمجھتے تھے چھٹی کا کوئی تصور نہ تھا۔مجھے یاد ہے ابی نے زندگی میں کبھی چھٹی نہ کی۔خود میری چھٹیوں میں بھی ہوم ورک اور اتالیق کے ساتھ مصروفیت رہتی۔روزانہ شام کے کھانے پر میری روزانہ کی پڑھائی کا جائزہ لیتے ، یہ جائزہ میرے لئے کچھ پریشانی کا باعث ہوتا کیونکہ نتیجہ یہی نکلتا تھا کہ وقت کے بہتر استعمال کی ابھی بھی گنجائش ہے۔ابی مجھ سے بڑی تو قعات رکھتے تھے محنت کرنا انہوں نے اپنے والد سے سیکھا تھا اور انکی خواہش تھی کہ میں بھی ویسا ہی کروں۔اسی طرح ٹیلی ویژن دیکھنا وقت کا زیاں سمجھتے تھے۔لیکن مجھے یاد ہے کہ ابی کو دو مزاحیہ پروگرام بہت پسند تھے ایک تو تھا Dads Army جو کلاسیکل کا میڈی پروگرام تھا جسے دیکھتے ہوئے وہ بہت پر زور قہقہے لگاتے۔دوسرا پروگرام بھی کامیڈی تھا اس کا نام تھا Morcamb and Wise یہ دونوں صاف ستھرے مزاحیہ پروگرام تھے ایسے پروگراموں کی کمی آجکل بہت محسوس ہوتی ہے۔ابی جان کو جلد سوئے اور جلد جا گئے کا اصول ہر دلعزیز تھا۔وہ آٹھ بجے بیڈ روم میں چلے جاتے اور نو بجے لائٹ آف کر دیتے۔اس کے بعد فون سننا پسند نہ کرتے تھے احباب اور افراد خاندان کو اس کا علم تھا کہ جب وہ لندن آتے ہیں تو رات نو بجے کے بعد فون نہیں کرنا۔اسی طرح کھانے کے دوران بھی فون نہ سنتے۔فون کر نیوالے کو کہہ دیا جاتا کہ بعد میں فون کریں۔یہ پکا اصول تھا۔ابی گہری نیند سوتے تھے میں