مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 22 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 22

(۲۲) جاتا تو ائر پورٹ جاتے ہوئے راستے میں یا ائر پورٹ پر پہنچ کر تھیلا دوبارہ بھر لیتے تھے۔ابی کوشا پنگ سے سخت نفرت تھی۔اسے وقت کا زیاں گردانتے تھے۔لیکن کوئی ستا سودا ہاتھ میں آجاتا تو ڈھیر سارا خرید لیتے۔ایک دفعہ نیو یارک میں سات سات ڈالر کی قمیضیں نظر آگئیں تو ایک نہیں پوری پندرہ خرید لیں۔پاکستان کی خبروں میں بہت دل چسپی تھی اس لئے روزانہ ریڈیو پاکستان کی خبریں سنتے تھے شروع شروع میں روسی ساخت کے ستے ریڈیو خرید تے لیکن انہیں جلد احساس ہو گیا کہ ان کی ادنی کوالٹی کے باعث بہت سا وقت ٹیوننگ میں ضائع ہو جاتا تھا۔چنانچہ بعد ازاں عمدہ کوالٹی کے ریڈیو سیٹ خریدے۔پھر قرآنی تلاوت سننے کیلئے سٹیر یو خریدا۔قاری عبد الباسط کی آواز بہت سریلی تھی اس کی تلاوت Saville Raw Hawkes سے ابی بہت متاثر تھے اور اپنی وفات تک اس سے متواتر استفادہ کرتے رہے۔ابی لباس کے زیادہ شوقین نہ تھے شروع میں جو ملا پہن لیا۔لیکن بعد میں وہ Geives and Saville کے نفیس قسم کے سوٹ پسند کرنے لگے۔جس کی بڑی وجہ ان کی پائیداری تھی یوں بار بار خریدنے میں وقت ضائع نہ ہوتا۔مجھے حال ہی میں پتہ چلا ہے کہ وہ گیوز کے سوٹ کیوں پسند کرتے تھے اسکی تفصیل کیلئے آپ کو میرے چا کی لکھی ہوئی سوانح عمری پڑھنا ہوگی جو جلد ہی طبع ہوگی لیکن اشارہ کر دیتا ہوں کہ ابی گیوز کے سٹور پر سالانہ میل کے موقعہ پر جاتے اور فائدہ اٹھاتے۔آخر عمر میں ابی اچھے کپڑے پہننا پسند کرتے تھے۔ابی نے مجھے زندگی کے ہر مرحلہ پر تعلیم کی اہمیت سکھائی۔نیز کتابوں کی اہمیت، ان کی دیکھ بھال کی اہمیت ، جب کبھی میں کسی کتاب میں دل چسپی کا اظہار کرتا وہ مجھے لے دیتے۔کتابوں کے حصول میں میرے اوپر کوئی پابندی نہ تھی۔ہاں مجھ پر لازم تھا کہ ان کی مناسب نگہداشت کروں۔ہم دونوں بعض اوقات کتابوں کی دکانوں پر گھنٹوں وقت گزار دیتے۔جب وہ امپرئیل کالج میں ہوتے تھے تو انہیں دو سٹور بہت پسند تھے گلاسٹر روڈ کا کا نک سٹور Kanac اور ساؤتھ کنز نگٹن کا آپن ہا ئیمر۔فائیلز Foyles کا سٹور بھی پسند تھا لیکن اس کی اشیاء ترتیب اچھی نہ تھی رچمنڈ ہل پر نئی اور پرانی کتب کی ایک دکان پر جانا