مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 240 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 240

(۲۴۰) ملاقات کی مگر لباس، طعام، بودوباش میں وہ سادگی کا درخشندہ نمونہ رہے۔مزاج میں بے نفسی، قناعت، اور مروت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔واقعی سلام جیسے یگانہ روزگار انسان دنیا میں کبھی کبھی پیدا ہوتے ہیں ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا سلام جیسی عہد ساز شخصیت چشم فلک نے کم ہی دیکھی ہوگی۔حیف صد حیف علم وفضل کا یہ آفتاب جس نے زمانے کو ایک عرصہ تک روشن کیا وہ ۲۱ نومبر ۱۹۹۶ء کو غروب ہو گیا۔حرف آخر جس طرح نیوٹن کی شخصیت یوورپ اور انگلینڈ میں سائنس کی تا ریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ھے اسی طرح ڈاکٹر عبد السلام کی عظیم اور تاریخ ساز شخصیت اسلامی سائینس کی نشاة ثانيه میں خشت اول کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کا واضح ثبوت تو ایک چیز یہ ہے کہ نوبل انعام کی سو سالہ تاریخ میں ۱۹۷۹ء تک کسی مسلمان کو نوبل انعام نہ ملا تھا۔آپ کو نوبل انعام ملا تو اس کے بیس سال بعد مصر کے ڈاکٹر احمد حسن زویل کو بھی نوبل انعام مل گیا۔گویا ڈاکٹر سلام مرحوم بارش کا پہلا قطرہ تھے اب انشاء اللہ یہ قطرہ بحر بیکراں بنے گا اور عنقریب اسلامی سائینس کی نشاۃ ثانیہ سے مسلمان سائینسدانوں کی قطار لگ جائیگی اور دنیا حیران رہ جائیگی کہ یہ کیسے ہوا؟ ڈاکٹر سلام نے خوابیدہ امت مسلمہ کو بیدار کرنے کی جو ان تھک کوششیں کیں وہ رائیگاں نہیں گئیں۔تمام اسلامی ممالک میں اب ایک عجیب قسم کی بیداری پیدا ہو رہی ہے۔پاکستان کو ہی لے لیں ڈاکٹر سلام نے تھیورٹیکل فزکس کی وطن عزیز میں بنیاد ڈالی، صدیوں سائینسدانوں اور لیبارٹری ٹیکنیشنز کو مغربی ممالک میں اپنا اثر و رسوخ استعمال میں لاتے ہوئے ٹریننگ دلوائی۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان وہ پہلا اسلامی ملک بن گیا جس نے بزور بازو جوہری ہتھیار بنا کر تاریخ کے دھارے کو موڑ دیا۔دنیا میں ترقی اور زوال تو دھوپ اور سایہ کی طرح ہیں، کسی قوم نے کبھی بھی تین سو یا پانچ سو سال سے زیادہ دنیا پر حکومت نہیں کی۔آٹھویں صدی سے لیکر تیرھویں صدی تک مسلمان سائینس کی۔