مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 239 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 239

(۲۳۹) قرآن پاک کا نسخہ ہوتا تھا۔نیوٹن اور آئین سٹائین کو ادب سے کوئی شغف نہ تھا مگر پر وفیسر سلام مرحوم کو ادب سے خاص لگاؤ تھا۔انکا پہلا ادبی مضمون غالب نے اپنا تخص کب تبدیل کیا ؟ کے عنوان سے رسالہ راوی میں شائع ہوا تھا۔فیض کا درج ذیل شعر ان کا محبوب ترین شعر تھا: کئی بار اس کی خاطر ذرے کا جگر چیرا۔مگر یہ چشم حیراں جس کی حیرانی نہیں جاتی پروفیسر عبد السلام کو ۳۰ سے زائد یونیورسٹیوں سے اعزازی ڈگریاں دی گئیں۔ہیں کے قریب اعلیٰ ترین ملکی و قومی ایوارڈوں سے نوازا گیا تھا۔ان کو بیس کے قریب دنیا کی مشہور ترین سوسائٹیوں کی فیلو شپ حاصل تھی۔وہ علی الصبح نماز فجر کے بعد اپنا ریسرچ کا کام شروع کرتے تھے اور رات کو جلد سو جایا کر تے تھے۔ان کیلئے فزکس اور فطرت کا مطالعہ گویا عبادت کا درجہ رکھتا تھا۔ایک بار انہوں نے ایک اخباری نمائندے کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا تھا:۔I get my pleasure from thinking about the problems of physics It gives me the biggest relaxation۔ایک پاکستانی سائینسدان ڈاکٹر عبد الغنی کے الفاظ میں: اسلامی تعلیمات کے زیر اثر سلام نے اپنی ساری توانائیوں اور صلاحیتوں کو پوری انسانیت کیلئے وقف کر دیا ہے۔ان کا دل بے در و دیوار ہے جس میں ہر محکوم، ہر محروم اور ہر مظلوم کیلئے بلا لحاظ رنگ و نسل اور مذہب وملت بے پایاں تڑپ ہے۔نیوٹن نے شادی نہ کی ، آئین سٹائین نے دو شادیاں اور سلام نے بھی دوشادیاں کیں۔آئین سٹائین کے دو بیٹے تھے۔سلام کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔نیوٹن شکی مزاج تھا جبکہ آئین سٹائین طنز و مزاح کا دلدادہ تھا۔سلام بھی طبیعت کے ہشاش بشاش انسان تھے اور خوب زور دار قہقہہ لگا کر محفل کو زعفران زار بنا دیتے تھے۔نیوٹن نے بہت سارے سائینسی مقالے لکھے مگر ان کو شائع نہ کیا۔آئین سٹائین نے تین صد کے قریب مقالے لکھے جبکہ سلام نے ۲۷۳ مقالہ جات لکھے جو دنیا کے اعلیٰ سائینسی جرنلز میں شائع ہوئے۔تینوں سائینسدان یک سوئی کی صلاحیت سے نوازے گئے تھے۔تینوں کو لکھنے کی قابلیت سے رشک کی حد تک نوازا گیا تھا۔سلام مرحوم نے سویڈن، سپین، مراکش، اردن، کے بادشاہوں اور برطانیہ کی ملکہ سے کئی بار