مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 215
(۲۱۵) سوال آپ کا برین ڈرین Brain drain کے بارہ میں کیا خیال ہے جو ترقی پذیر ممالک میں ہو رہا ہے اور ان کو کھوکھلا کر رہا ہے؟ جواب: یہ ایک مختلف قسم کا برین ڈرین ہے۔اب ہر کوئی مڈل ایسٹ جانیکا خواہش مند ہے بجائے امریکہ جانے کے۔اس کے علاوہ جو امریکہ اور یوروپ میں پہلے ہی جاگزیں ہیں وہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔علاوہ ازیں میرا جواب یہ ہے کہ آپ نے خود کو تیار رکھنا ہے کہ آپ ریپ لیسمینٹ پیدا کرتے رہیں اور دوسرا یہ کہ ہمارے بچے سائینس کے مضامین کا مطالعہ کا شغف نہیں رکھتے۔ہمارے زمانے میں صرف ذہین ترین بچہ کو سائینس کے مطالعہ کا موقعہ دیا جا تا تھا۔مگر یہ صورت حال اب نہیں ہے۔اس کی ذمہ داری حکومت پر پڑتی ہے کیونکہ انہوں نے ہے ہی نہیں بنایا career structure ہے۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہمارے ہاں لیبارٹریز ہوتیں جہاں یہ بچے کام کر سکتے ، دوسری ذمہ داری آپ لوگوں پر پڑتی ہے (یعنی اخبار نویسوں پر ) جو قابل بچوں کو پروجیکشن ہی نہیں مہیا کرتے۔آپ مجھے بتا ئیں کہ آپ نے سائینس کے مضامین کو کیا پروجیکشن دی ہے؟ آپ نے کتنے اچھے قابل سائینسدانوں کے انٹرویو چھاپے ہیں؟ یہ ذمہ داری آپ کی ہے کہ آپ لوگوں کو ان ذہین بچوں کے بارہ میں مطلع کریں۔مثلاً ٹیلی ویژن کو لے لیں۔میں نے ایک ٹی والے سے پوچھا کیا آپ نے نازمہ مسعود کو کوئی کوریج دیا ہے جس کو عبد السلام ایوارڈ دیا گیا تھا ؟ ہاں ایک یا دو منٹ کا کوریج دیا جبکہ دوسرے احوال کو گھنٹوں کا کوریج دیا۔کیا اسطرح تو میں پنپتیں ہیں؟ چاہئے تو یہ تھا کہ ٹیلی ویژن والے نا زمہ کو اس کی زندگی کے بارہ میں پوچھتے ، اس کے مسائل کا پوچھتے تا دوسرے لوگ ان رکاوٹوں کو دور کریں۔جب ایسی باتیں کسی قوم میں نہیں پنپ سکتیں وہ قوم اس وقت ترقی نہیں کرسکتی۔یہی چیز اسلام میں بھی ہوئی۔ہم لوگ پاکستان اور انڈیا میں رہنے والے مسلمان بہت بد نصیب ہیں کہ ہمارے یہاں اس وقت اسلام پہنچا جب ان کا (عربوں) سائینسی دور اختتام کو پہنچ چکا تھا۔اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم لوگ اپنے اندر کوئی learning tradition پیدا ہی نہیں کر سکے۔ہمارے حکمرانوں (مغل) نے نہ تو کوئی مدرسہ یا