مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 214
(۲۱۴) سوال: کیا آپ کے خیال میں ملک میں ایسے رجحان میں کوئی فرق آیا ہے؟ جواب ملک کی تاریخ میں محبوب الحق نے تبدیلی پیدا کی ہے۔مگر اس کو بھی کام نمٹانے کیلئے۔جہنم کے راستہ سے گزر کر جانا ہوگا۔میں بیورو کریسی کے بارہ میں بات کر رہا ہوں۔یعنی سیکری ٹیریز ، ان کو یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ سائینسدانوں کو ملک کے اندر کام کیلئے جگہہ دی جائے۔وہ تو صرف کنٹرول چاہتے ہیں۔ان میں سے بعض ایک میرے دوست اور کلاس فیلو ہیں۔مگر ان کو کون سمجھائے۔محبوب نے مجھے بتلایا ہے کہ ان لوگوں کو تو کاروائی کی فکر ہے، ان لوگوں کی سوچ بدلنا بہت مشکل ہے۔ٹریسٹ میں جس گھر میں میری رہائش ہے اس کا مالک ایک کنسورشیم ہے۔جس کو وہاں کے شہریوں نے چنا تھا۔وہاں ایک چیری ٹیبل بینک ہے اس کی تمام آمدنی خیراتی کاموں پر خرچ ہوتی ہے۔پھر وہاں شہر کا مئیر ہے۔اٹلی کی حکومت کا کوئی دخل نہیں۔پھر شہر کے مخیر اثر و رسوخ والے شہری ہیں۔ان لوگوں نے ہمیں بلڈنگ مہیا کی ہے جس کی قیمت پندرہ لاکھ ڈالر ہے۔وہاں کے شہریوں نے مجھے گھر دیا۔سوال یہ ہے کہ سائینس کیلئے لوگ کیا کچھ کرنے کو تیار ہیں۔ایسی کوئی چیز مذہب اسلام میں پرانے زمانے میں اس کے سنہری عروج کے دور میں تو نہ تھی۔سوال آپ نے ایک بار کہا تھا کہ ۷۵۰ء سے لیکر ۱۱۰۰ تک کا عرصہ اسلام کے سائینسدانوں کا زمانہ تھا۔اس وقت سائینس کی نشاۃ ثانیہ کی کیا صورت تھی؟ آج حالت یہ ہے کہ پنجاب یو نیورسٹی نے ریاضی میں پچھلے ۳۵ سال میں ایک بھی پی ایچ ڈی پیدا نہیں کیا ہے۔یہ سائینسی نشاۃ ثانیہ اب کیسے اور کب ہوگی؟ جواب: میں نے اس نکتہ کی وضاحت کویت میں اپنی تقریر کے دوران کی تھی جس میں چھ وزیر بھی موجود تھے۔میں نے ان سے کہا کہ چین ٹیل مین میں آپ کے ملک میں پہلی بار آیا ہوں۔میں نے دیکھا ہے کہ آپ میں سے ہر ایک محل کے بعد محل بنا رہا ہے لیکن آپ کے یہاں ایک بھی سائینس کا محل نہیں ہے۔میری تقریر کے بعد تمام لوگ تعزیماً کھڑے ہو گئے وہاں قریب چا رصد افراد تھے لیکن ان میں سے ایک نے بھی ایک چینی سائینس کیلئے نہ دی۔