مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 216 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 216

(۲۱۶) دگار چھوڑا اور نہ ہی کوئی لا نمبر میری۔ایک یادگار چھوڑ گئے اور وہ ہے تاج محل۔آپ تر کی جائیں تو دیکھیں گے کہ وہاں کے (عثمانی) حکمرانوں کے ہر قلعہ کے ساتھ ایک طرف تو مدرسہ ہوتا تھا اور دوسری طرف ہسپتال ہوتا تھا۔استنبول کے شہر میں صرف پچاس مساجد ہیں۔ہمارے یہاں کوئی ایسا تصور ہی نہ تھا۔سوال آپ نے اسلام آباد میں ایک میٹنگ میں شرکت کی ہے کیا آپ کو کوئی خوش آئند تبدیلی ہوتی نظر آتی ہے؟ جواب میں زبر دست تبدیلی نظر آتی دیکھتا ہوں اور اس کی بڑی وجہ محبوب الحق ہے۔ان کو اس بات کی سمجھ آگئی ہے کہ ہم سائینس پر جو رقم خرچ کر رہے ہیں وہ بہت کم ہے۔ہم لوگ ایک فی صد کا دسواں حصہ خرچ کر رہے ہیں جبکہ انڈیا جی این پی کا ایک فی صد خرچ کر رہا ہے۔سب سے بڑا سوال پیسے کا ہے انسان کا پیٹ خالی ہو تو اس کو سائینس کی کیا پڑی؟ یہ شخص ہمیں پہلے سے تین یا چار گنا زیادہ رقم اس سلسلہ میں فراہم کرے گا۔سائینس کی فیلڈ میں ہمیں اور لوگوں کی ضرورت ہوگی اب محبوب کی پرابلم یہ ہوگی کہ وہ ایسے لوگ تلاش کرے جو اس سکیم کو چلائیں گے نیز ایسے لوگ جو صرف سائینس کیلئے کام کریں گے۔میں امید کرتا ہوں کہ خدا اسے لمبی عمر عطا کرے تا وہ یہ عظیم کام احسن طریق سے انجام دے سکے۔سوال: کیا آپ نے انرجی کے بحران کے بارہ میں حکومت سے بات کی ہے جواب نہیں، یہ ایک بہت مشکل مسئلہ ہے نیز کچھ تو یہ اندرونی معاملہ اور کچھ خارجی، مختلف لوگوں کی اس بارہ مختلف آراء ہیں لہذا بہتر یہ ہے کہ میں اس بارہ کچھ نہ کہوں۔سوال عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں ریسرچ کی فنڈنگ اپلائیڈ کیلئے ہو نہ کہ بے سک ریسرچ کیلئے۔آپ کی اس بارہ میں کیا رائے ہے؟ سوال جیسا کہ میں نے اس بارہ میں اپنی رائے کئی بار دی ہے۔جائے اور اپنی فوری پرابلم کو اس طرح حل کریں لیکن آئندہ ایام کیلئے آپ کو سائینس ٹرانسفر کرنا ہوگی قبل اس کے کہ ٹیکنالوجی ٹرانسفر واقع ہو۔ہمیں دور اندیشی سے کام لینا اور سوچنا چاہئے۔فوری ضرورت کیلئے آپ ٹیکنا لوجی خرید لیں۔میں اس کی مثال دیتا ہوں۔پاکستان میں فارماسوٹیکل انڈسٹری میں ہم کچھ بھی مینوفیکچر نہیں کرتے