مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 88
(۸۸) جواب۔۔۔یہ صرف کامیابی ہی نہیں ، جب آپ ری لیکس ہو رہے ہوتے ہیں تو اس وقت آپ ماضی کی کامیابیوں پر ہی غور کر رہے ہوتے ہیں فی الحقیقت کوئی بھی تحقیقی مضمون جب آپ تحریر کر رہے ہوتے ہیں تو وہ مخصوص مسرت صرف چند روز کیلئے ہوتی ہے۔یا زیادہ سے زیادہ اس مضمون کو لکھنے سے آپ کو ایک ہفتہ تک مسرت ہو گی اور آپ خوشی سے پھول کر سماتے نہیں ہوں گے ، کہ اس سے برآمد ہو نیوالا نتیجہ کس قدر زبر دست اور انوکھا تھا۔مگر رفتہ رفتہ یہ چیز آپ کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے شاید یہ آپ کے خوشی دینے والے خلیات کا حصہ بن جاتی ہے یہ خلیات جہاں کہیں بھی آپ کے اندر موجود ہیں یہ آپ کو مزید سے مزید تحقیق کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔سوال۔کیا آپ پارٹیکل فزکس کی مافوق الفطرت ہیئت سے ورطہ حیرت میں پڑ جاتے ہیں؟ جواب۔۔۔یقیناً یہ بات بڑے اچھہ کی ہے ، بلکہ نا قابل یقین ہے کہ انسان بعض دفعہ جس یقینا یہ ہے، نا چیز یا پروجیکٹ پر کام کرتا ہے وہ فی الحقیقت سچا یا عین صحیح ثابت ہو جاتا ہے؟ سوال۔۔۔کیا آپ اس بات سے متاثر ہیں کس طرح لوگ نتائج اخذ کر لیتے ہیں یا اس بات سے متاثر ہیں کہ فطرت کی اصل ماہیت اور حقیقت کیا ہے؟ جواب۔۔۔دونوں سے متاثر ہوں بہ حیثیت مظاہر فطرت کے مثلاً دماغ کی سائینس کو لے لیجئے یہ بہت حیران کن ہے تو اس صورت میں فزکس منفرد نہیں ہے مگر جب میں اس چیز پر اس صورت میں غور کرتا ہوں کہ فزکس میں کتنی اعلیٰ و ارفع تھیوریز ہیں تو اس لحاظ سے فزکس منفرد ہے سوال۔۔۔کیا آپ کو میوزک سننا پسند ہے؟ میرا مطلب ہے کہ کیا آپکو موسیقی سننے سے ایسی ہی مسرت حاصل ہوتی ہے جیسے فزکس کے مسائل پر غور و فکر کرنے سے؟ جواب۔۔۔میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ مجھے (میوزک) سے ویسی ہی sublimity یعنی رفعت اور عروج حاصل ہوتا ہے۔در حقیقت میں یہ عروج قرآن پاک کی خود تلاوت کر کے یا سن کر حاصل کرتا ہوں۔کیونکہ جب آپ قرآن پاک کو نصف گھنٹہ تک سنتے ہیں تو آپ کو (بلکل ایسا ہی ) سکون اور عروج حاصل ہوتا ہے اور آپ پر سرود کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔