مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 87
(۸۷) کی ہستی کے نشانات کو فطرت کے مظاہر فینا (فينا منا) میں تلاش کریں تو یوں اسلام اور سائینس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔سوال۔۔۔آپ کو فزکس کے مطالعہ اور اس کے مسائل پر غور و فکر سے کس قسم کی مسرت اور دینی سکون حاصل ہوتا ہے؟ جواب۔۔اس کا جواب میں یوں دوں گا جب آپ سونے کی خاطر بستر پر جاتے ہیں آپ تھکے ماندے ہوتے ہیں ، سارا دن انتظامی امور کی انجام دہی کے بعد ، یا کسی دوسرے کام کی وجہ۔آپ تھکے ہوتے ہیں، تو اس وقت کس خیال سے آپ کو سب سے زیادہ تفریح حاصل ہوتی ہے۔مجھے معلوم نہیں، آپ کو کس خیال سے سکھ۔چین اور دینی فرحت حاصل ہوتا ہے مگر مجھے تو جناب فزکس کے پیچیدہ مسائل پر غور و فکر کرنے سے بے انتہا لطف حاصل ہوتا ہے، اور میں ری لیکس محسوس کرتا ہوں۔سوال۔۔۔یعنی فزکس کے پیچیدہ مسائل پر غور و فکر کرنا آپ کے نزدیک کوئی خاص مسئلہ یا بو جھل کام نہیں ہے؟ جواب۔۔۔میرے نزدیک تو یہ چیز اس کے برعکس لطف اندوز ہے میں اس بیان کو اگر چہ یوں کوالی فائی کروں گا جب آپ کسی مسئلہ پر ریسرچ کر رہے ہوتے ہیں اگر چہ یہ کام بہت مشکل ہوتا ہے اور آپکا جی چاہتا ہے کہ sat your heart out آپ سوچتے ہیں کہ اس آئیڈیا کو کامیاب ہونا چاہیئے مگر وہ کامیاب نہیں ہوتا ہے تو پھر یہ کام رفتہ رفتہ گھبراہٹ کا باعث بن جاتا ہے در آں حالیکہ آپ اس مسئلہ پر متواتر غور کر رہے ہوتے ہیں تو اس لحاظ سے یہ لطف اور مسرت دینی والی چیز ہے۔سوال۔۔۔یہ لطف کس قسم کا ہے؟ کیا یہ لطف اس بات میں مضمر ہے کہ آپ نے اس روز کیا امور سر انجام دئے یا یہ کہ فزکس کی بیوٹی پر غور کرنا ہی لطف اندوزی کا باعث ہے؟ جواب۔۔۔بات دراصل یہ ہے کہ جب غور و فکر کرنے کے بعد جب آپ کوئی چیز دریافت کر تے ہیں تو یہ بذات خود نادر اور نایاب چیز ہے۔سوال۔۔۔گویا کامیابی سے ہی آپ کو لطف میسر ہوتا ہے؟