مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 68
(۶۸) جاتے تھے چنانچہ لیس لی Leslie یا پیٹر وائٹ کو سلام کو سمجھانا پڑا کہ ایسی تعظیم اور عزت کے اظہار کی کیمبرج میں کوئی ضرورت نہیں ہے۔جب میر اوقت لینٹ ٹرم میں عبد السلام کی فرداً فرداً سپر ویژن کیلئے آیا تو یہ اسلامی طریقہ ( انڈین ) آداب کم ہو کر ہاتھ ہلانے اور دور سے سلام کہنے تک محدود ہو گیا۔لینٹ ٹرم Lent Term کے دوران غضب کی سردی پڑی اس کے بعد تو صرف زندہ رہنا ہی محال ہو گیا کلاس روم میں میں گھنٹہ ختم ہونے کا انتظار کرتا تا کہ میں کامن روم میں جاسکوں جہاں آگ کمرہ گرم کرنے کیلئے جل رہی ہوتی تھی اور عبدالسلام اگلے سیب کا منتظر ہوتا تھا۔لینٹ ٹرم آئی اور چلی بھی گئی اور پھر جون کے وسط میں میری ملاقات عبد السلام سے دوبارہ ہوئی میری اس سے یہ سرسری ملاقات سیکنڈ کورٹ کی بلڈنگ میں ہوئی۔میں نے اس سے پوچھا کہ اس کے ابتدائی امتحانات کیسے رہے؟ اس نے جواب دیا کہ بہت خراب، بہت غلطیاں سرزد ہوئیں اور یہ کہ کر وہ قہقہہ لگاتے رفو چکر ہو گیا۔دو کلچرز کا تصادم جہاں تک ابتدائی امتحانات Prelims کا تعلق ہے کلاس میں طلباء کی لیسٹ اور ان کے امتحان میں نمبر ان کے سپر وائزر کو بھجوا دیئے گئے ، عبد السلام نے اول پوزیشن حاصل کی اور میرا خیال ہے وہ فہرست میں تیسرے نمبر پر تھا۔اس کے بعد اس کا ٹرائی پوز Tripos کا سال شروع ہوا۔اور میری اس سے ملاقات پہلے سے نسبتاً زیادہ ہونے لگی ہاور تھ نے اندازاً اس وقت برسٹل یو نیورسٹی میں اپلائیڈ میتھ کی چیر قبول کر لی۔اور میری عبد السلام سے ملاقات کی زیادہ وجہ یہی تھی یہ فی الحقیقت دو کلچرز کا تصادم تھا انڈیا میں اس نے جس مکتب خیال میں تعلیم حاصل کی تھی اسے را ما تو جن سکول کہا جاتا ہے جس کے مطابق یہ جاننا کہ حقیقت کیا ہے اس کو فوقیت حاصل ہے اس امر پر کہ اس حقیقت کو بیچ کیسے ثابت کیا جائے؟ میری ٹرینگ اس کے برعکس کیمبرج کے مکتب خیال میں ہوئی تھی جس کے مطابق یہ جاننا کہ حقیقت کیا ہے اس کی زیادہ اہمیت نہیں صرف اس کو سچا ثابت کرنا زیادہ ضروری ہے۔چنانچہ ہم دونوں نے