مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 62 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 62

(۶۲) راستہ ہموار کر کے ان کو ایک جگہ اکٹھا کر دیا۔اس کا میابی پر سلام وائن برگ اور گلا شو کو ۱۹۷۹ء میں حق بجانب نو بل انعام ملا، سلام نے خموشی سے انعام کی سو فی صد رقم غریب طلباء کے سکالرشپ کیلئے دے دی۔وہ کہتا تھا کہ مذہب اسلام جس کے مطابق وہ اپنی زندگی گزارتا ہے اس نے اس رقم کے دینے کیلئے اسے دریا دل بنا دیا ہے۔اس دوران سلام نے ٹریسٹ (اٹلی) میں انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوری شکل فزکس کی بنیاد رکھی جس نے غریب ممالک میں بنیادی سائینس کے لیول کو اوپر بڑھانے کیلئے اس کے سپنے کو پورا کر دیا۔یہ سینٹر تیسری دنیا کے ممالک سے آنے والے سائینس دانوں کو فنڈز اور رہائش مہیا کرتا ہے جب وہ اپنے تعلیمی اداروں سے sabbatical leave پر ہوتے ہیں۔مگر اپنے وطن میں وہ ان اداروں میں اپنی اکیڈیمک پوزیشن برقرار رکھتے ہیں اس سینٹر میں قیام کے دوران وہ نہ صرف اپنی ریسرچ پر توجہ مرکوز کر تے بلکہ دوسرے ممالک سے آئے ہوئے پروفیسروں سے بھی رابطہ بڑہاتے ہیں۔یہ سینٹر ان کو جدید مواصلات اور ان کی ریسرچ کو شائع کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔سلام نے اس سینٹر کو اس طریق سے ڈیزائن کیا ہے کہ تیسری دنیا کے سائینس دان سائینسی طور پر اپنے وطن سے ہجرت کئے بغیر پروڈکٹو رہتے ہیں نیز ایسے احباب کو امیگریشن یا فرسٹریشن میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کرنا ہوتا۔فنڈ ریزر روز اول سے ہی سینٹر کی مساعی صرف اور صرف پارٹیکل فزکس پر مرکوز نہیں رہیں آنیوالے سائینس دانوں کے درمیان دوسرے موضوعات جیسے پلازما فزکس۔ماحولیاتی تجزیہ۔اور مالیکیولر بیالوجی میں بھی میٹنگز طے پاتیں اور وزٹر ز کو دعوت دی جاتی ہے۔سلام نے ۱۹۵۵ء اور ۱۹۵۸ء میں جینیوا میں اٹامک انرجی کے پر امن استعمال پر منعقد ہونے والی کانفرنسوں کے سکرٹری کے فرائض سرانجام دئے تھے۔سلام نے نیو کلئر فشن اور نیو کلئر فیوژن دونوں میں اپنا انسرٹ برقرار رکھا دونوں کو انرجی کے سورس اور سائینسی پرابلم حل کرنے کے زبردست چیلنج کے طور پر۔وہ اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ بنیادی سائینس اور اپلائیڈ سائینس دونوں ترقی پذیر ممالک کے لئے اہم ہیں سینٹر