مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 63 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 63

(۶۳) میں آنے والے مہمان زیادہ تر بنیادی سائینس پر کام کرتے ہیں مگر اپلائیڈ سائینس کو بھی برا نہیں سمجھا جاتا ہے۔پورے تمہیں سال تک سلام اس سینٹر کو زندہ رکھنے کے لئے ناختم ہونے والی مگر کامیاب جنگیں لڑتا رہا اس دوران اس نے فنڈ ریزر کی قابل ستائش صلاحیت اپنے اندر پیدا کر لی۔اس نے سینٹر کے لیئے فنڈ ز اطالین حکومت۔ٹریسٹ کے شہر، اقوام متحدہ ، اٹامک انرجی کمیشن (وی آنا )۔اور صدیوں فاؤ نڈیشنز اور انفرادی لوگوں سے حاصل کئے۔سینٹر کے ڈائرکٹر کی حیثیت سے اس نے ایڈمنسٹریشن کی بھاری ذمہ داریاں خود اٹھا ئیں اور اس کے ساتھ وہ انٹلیک چوئیل لیڈرشپ بھی سینٹر کو فراہم کرتا رہا۔یہ سینٹر اس کے ویژن، اس کی انرجی ، اس کی بے لوث خدمت کا جیتا جاگتا اور یاد گار نمونہ ہے تا مختلف قوموں کے لوگ سائینس کے کامن پر سوٹ common pursuit کے لئے ایک جگہ اکھٹے ہوسکیں۔جب سلام بر طانیہ آیا تھا تو شروع ایام میں وہ کہا کرتا تھا کہ اُس کے ملک میں عزت والے صرف دو پیشے ہیں : عوام الناس میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جانے کے لئے یا تو انسان آرمی جنرل ہو یا پھر شاعر۔اس کی بے لوث کوششوں اور فقید المثال نمونہ کے باعث اب پاکستان کی حالت بدل رہی ہے اب وہ جرنیلوں اور شاعروں سمیت اپنے ملک میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مگر پاکستان اور ایسے ممالک نے ابھی بہت تگ و دو کرنی ہے۔تمہیں سال بعد اب امیر ممالک غریب ممالک کی مدد پر پہلے سے کم مائل ہیں سلام ہمارے کندھوں پر تیسری دنیا کے ممالک کی مدد کے لئے بھاری ذمہ داری ڈال گیا ہے جو ہم برے طریق سے نبھا رہے ہیں۔میں اس مضمون کو قرآن پاک کی اس آیت کریمہ پرختم کرتا ہوں جس کا حوالہ وہ اکثر دیا کرتا تھا۔ان الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما با نفيهم (الرعد (١٢)