مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 61
(YI) قدیم ترین زمانے سے طے شدہ کری کولم کے مطابق دے۔جلد ہی اس نے خود کو جدید سائینس اور بین الا قوامی سائینسی کمیونٹی سے روز بروز منقطع محسوس کیا۔تین سال بعد اسے یہ بات سمجھ آئی کہ وہ اپنے وطن کی خدمت بجائے ملک کے اندر رہنے سے ملک کے باہر سے زیادہ کر سکتا ہے۔۱۹۵۴ء میں وہ کلئیر کانسٹے اٹنس کے ساتھ برطانیہ واپس لوٹ آیا۔اور یہاں ریسرچ کیرئیر کے جادہ پر بڑی سرعت سے دوبارہ گامزن ہو گیا۔لندن کے مشہور امپرئیل کالج آف ٹیکنالوجی ( یونیورسٹی آف لندن) میں اس نے ۱۹۵۷ء میں تقرری قبول کر لی، جس پر اس کا تقرر ساری عمر رہا لندن کے باعزت پر وفیسر کی حیثیت میں اس کا تقر ر صدر پاکستان کے چیف سائمی خفک ایڈوائزر کے طور پر ہوا اور اس رول میں اس نے پاکستان کی تعلیمی پالیسیوں پر بہت دیر پا اثر ڈالا ، برعکس اس کے کہ وہ ایسا اثر لا ہور میں رہ کر ڈال سکتا۔اپنے وطن کے سب سے باعزت شہری کے روپ میں وہ اکیڈیمک گروؤں کی بودی سیاست سے بالا تر رہا۔نوبل انعام سلام سے میری پہلی ملاقات جب ۱۹۵۰ء میں ہوئی تو میں نے اسے اپنے برابر کا اٹلیکچھ ٹیل ایک دم تسلیم کر لیا تھا۔ایسا نو جوان جو ریاضی کے پیچیدہ مسائل اتنی برق رفتاری سے حل کر سکتا تھا۔جتنا کہ میں خود۔دس سال بعد میں نے دیکھا کہ وہ علمی کاموں میں مجھے پر بازی لے گیا تھا جہاں میں ابھی تک ریاضی کے مشکل مسائل کا حل تلاش کرنے میں مصروف تھا وہ فزکس کی کائینات میں خفیہ گہرے رازوں سے پردے اٹھانے میں بہت آگے نکل گیا تھا۔جہاں میں پرانی تھیوریز کی تفصیلات تلاش کر نے میں مگن تھا وہ نئی تھیوریز خود تخلیق کر رہا تھا وہ دس سال تک برقی مقنا طیس اور و یک نیوکلئر فورس کے درمیان اتحاد کی تھیوری اخذ کرنے میں گھمبیر گلیوں میں آنکھ مچولی کھیلتا رہا۔بالآ خر ۱۹۶۷ء میں کامیابی نے اسکے قدم چومے۔سٹیون وائن برگ اور شیلڈن گلا شو نے آزادانہ طور پر ایک دوسرے کے تعاون کے بغیر الیکٹرو و یک تھیوری پیش کی۔جسکا تجرباتی ثبوت چھ سال بعد و یک نیوٹل کرنٹ ملنے سے ہوا۔الیکٹرو و یک تھیوری نے پارٹیکل فزکس کے سٹینڈرڈ ماڈل میں شامل ہونے والے تمام آئیڈیاز کے لئے