مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 25
(۲۵) سے پاس کر کے ریکارڈ توڑا۔اور پھر ۱۹۴۲ء میں اسے گورنمنٹ کالج میں داخلہ مل گیا جو اس وقت پورے ہندوستان میں سب سے افضل تعلیمی ادارہ تھا۔اس کے بعد ہم سلام کو ترقی کے زینہ پر اوپر کی طرف چڑھتے دیکھتے رہے جب وہ ہر دو سال بعد یو نیورسٹی کے ریکارڈ توڑتا رہا۔( یعنی میٹرک کے بعد انٹر میڈیٹ کا امتحان۔پھر بی اے اور پھر ایم اے ) اس دور کے تمام طلباء کو سلام کا تعلیمی کیرئیر انسا ئر کرتا رہا اور وہ ہم سب کیلئے رول ماڈل بن گیا۔افسانوی شخصیت گورنمنٹ کالج لاہور میں راقم الحروف نے پہلی بار جب عبد السلام کو دیکھا۔تو وہ اس وقت افسانوی شخصیت بن چکا تھا۔پتلا ، خوبصورت، کافی لمبے قد کا نو جوان جس کے چہرہ پر برش قسم کی مونچھیں تھیں۔اور جو اپنے کلاس روم یا ہوٹل کے کمرہ سے باہر شاذ و نادر ہی نظر آتا تھا اس وقت میں بھی نیو ہا سٹل کا مکین تھا جہاں عبد السلام بورڈر کے طور پر مکین تھا۔یہاں عبد السلام کے محنتی ہونے کے بارہ میں قسم ہا قسم کی کہانیاں سننے میں آتی تھیں۔مثلاً لوگ کہتے تھے کہ ہر صبح جب وہ اپنے کمرہ سے باہر آتا تھا تو کمرہ کے باہر کاغذوں کا انبار لگا ہوتا تھا جن پر ریاضی کے فارمولے اور سوالات حل کئے ہوتے تھے میرے گورنمنٹ کالج آنے کے کچھ ہی عرصہ بعد وہ یہاں سے شہرت کی ہواؤں کے دوش پر سوار ہو کر کیمبرج روانہ ہو گیا۔پھر ۱۹۵۱ء کے لگ بھگ عبد السلام لیکچرار بن کر کالج واپس آیا وہ اس وقت یو نیورسٹی میں کو انٹم میکے نیکس کے موضوع پر ایک کورس پڑہا رہا تھا۔اور کالج کے پرنسپل قاضی محمد اسلم کے گھر پر رہائش پذیر تھا۔میری ملاقات بعض دفعہ سلام سے کالج کے سومنگ پول پر ہوتی تھی اس وقت میں فزکس میں ایم ایس سی کر رہا تھا اور اس کے لیکچر سنا کرتا تھا۔سلام اس زمانہ میں سادہ اور بے تکلف قسم کا انسان تھا جو طالب علموں سے دوستانہ رنگ میں پیش آتا تھا۔اس دور کا اہم ترین واقعہ پاکستان ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانس منٹ آف سائینس لاہور کی طرف سے انٹر نیشنل کانفرنس کا انعقاد تھا جس میں مشہور سائینس دانوں کے علاوہ متعدد نو بل انعام یافتگان نے بھی شرکت کی۔جیسے سر جی پی تھامپسن G۔P۔Thompson۔-- پروفیسر اے وی ہل A۔V Hill۔اس