مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 24
(۲۴) ڈاکٹر سعید اختر درانی برمنگھم (برطانیہ) شيخ الرئيس) داكتر عبد السلام کے متعلق میری سب سے پہلی یادداشت ۱۹۴۰ء کے لگ بھگ کی ہے جب موسم گرما میں ہم نے اچانک یہ خبر سنی کہ جھنگ کے ایک غیر معروف اسکول کے طالب علم نے میٹرک کے امتحان میں یونیورسٹی آف پنجاب کے تمام گزشتہ ریکارڈ توڑ دئے ہیں۔اس کے تھوڑے عرصہ بعد ہم دونوں کے درمیان ایک ذاتی تعلق (مشترکہ جاننے والا ) نکل آیا۔مجھے معلوم ہوا کہ میرے ایک بڑے تایا جن کا نام حکیم محمد حسین تھا اور جو گورنمنٹ انٹر میڈیٹ کالج جھنگ کے پرنسپل تھے انہوں نے سلام کی ایجو کیشن میں بہت ذاتی دلچسپی لی تھی۔حکیم صاحب بذات خود ایک مانے ہوئے سکالر تھے۔انہوں نے انڈین ایجو کیشن سروس کے امتحان میں اول پوزیشن حاصل کی تھی ان کی علمی دلچسپیوں کا حلقہ بہت وسیع تھا یعنی تعلیم۔ادب۔فلاسفی اور مذہب۔حکیم صاحب جب عمر رسیدہ ہو گئے تو بتلایا کرتے تھے کہ ایک صبح گاؤں کے سکول کا کوئی ٹیچر یا سکول کا کوئی ملازم اپنے بیٹے کو سکول میں داخلہ دلوانے آیا ( میرے خیال میں سلام اس وقت بارہ سال کا تھا )۔اور درخواست کی کہ اس کی بچہ کی خاص نگہداشت کی جائے کیونکہ وہ عبقری بچہ ہے حکیم صاحب پہلے تو چونکے کہ اس ریمارک کی وجہ کیا ہوسکتی ہے۔پنجاب کا یہ دیہاتی علاقہ اور اس میں عبقری بچہ ؟ حکیم صاحب جتلایا کرتے تھے کہ جب انہوں نے اس بچہ کو قریب سے دیکھا اور اس کی پر فارمنس دیکھی تو ان کو جلد ہی احساس ہو گیا کہ فی الواقعہ ان کے ہاتھوں میں غیر معمولی پراڈکٹ آ گیا تھا۔چنانچہ انہوں نے سلام کو اپنی پوری توجہ دی اور اس کی کو چنگ احسن رنگ میں کی تا وہ اپنی پوٹینشل کو صحیح طور پر پا سکے۔یہ چیز شمر آور ثابت ہوئی اور سلام کے والد اور حکیم صاحب کا اس نوجوان کے بارہ میں ان کا یقین صحیح ثابت ہوا جب سلام نے میٹرک کے امتحان میں اول پوزیشن حاصل کر کے گزشتہ ریکارڈ توڑ دئے۔دو سال بعد ہم نے سنا کہ اس کے بعد جھنگ کالج سے انٹر میڈیٹ امتحان بھی اس نے اعلیٰ نمبروں