مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 26 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 26

(۲۶) کانفرنس کے دوران ہمیں اس بات کا احساس ہوا کہ عبد السلام دنیا کے ان چوٹی کے سکالرز کی نظر میں کس وقعت اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔یہ امر سائینس کے طالب علموں کیلئے بہت روح پرور اور اپ لفٹنگ تھا۔کانفرنس کے اختتام پر مندوبین کو ریل گاڑی کے ذریعہ پشاور اور تاریخی خیبر پاس کی سیر کرائی گئی۔ٹرین کے اس سفر کے دوران مجھے ڈاکٹر عبد السلام کے ساتھ گونا گوں موضوعات پر تبادلہ خیال کا نادر موقعہ میسر ہو ا تھا۔طلباء سے حسن سلوک اس کے بعد عبد السلام سے میری ملاقات ۱۹۵۳ء میں کیمبرج یونیورسٹی میں ہوئی۔جہاں میں کیونڈش لیبارٹری میں ڈاکٹریٹ کرنے اوپن ریسرچ سٹوڈنٹ شپ کی بناء پر گیا تھا۔سلام کیمبرج ۱۹۵۴ء میں فیلو کے طور پر اور سینٹ جانز کالج میں لیکچرار بن کر آیا۔اب کی بار میں نے دوبارہ اس کے لیکچروں میں پال ڈائیراک کے بھی) ریاضی کے ڈی پارٹمنٹ میں شرکت کی میں ان دونوں اساتذہ کے لیکچروں سے اس وجہ سے بہت متاثر ہوا کہ ان کو اپنے دقیق موضوع یعنی تھیوری آف کو اٹم مینکس پر زبر دست عبور حاصل تھا۔اس کے علاوہ ڈاکٹر سلام مختلف سوسائیٹیوں کی میٹنگز میں بھی شرکت کیا کرتا تھا جیسے مجلس جس کے ممبر ہند و پاکستان کے طلباء ہوتے تھے اور جو کلچرل اور سوشل پروگرام پیش کیا کرتی تھی وہ پاکستانی اور انڈین طلباء کیلئے ہمیشہ رسائی کے قابل ہوتا تھا بلکہ مجھے کئی بار اس کی خوشنما ر ہائش گاہ پر جا کر مشورہ کرنے یا محض بات چیت کرنے کا بھی موقعہ ملا۔ایک اور جگہ جہاں میں ڈاکٹر عبدالسلام سے متواتر ملتا رہا وہ جی سسر کا لج Jesus College کا Prioress Room تھا جہاں (ریسرچ کرنے والے) طالب علموں کیلئے ہائی انرجی فزکس میں تازہ بہ تازہ تھیوریز پر بحث کرنے کیلئے ہمارا سپر وائزر سر ڈنیس ول کنسن 2n ن Sir Dennis Wilkinson اجلاس منعقد کیا کر تا تھا۔ان بحث و مباحث کے اجلاسوں میں اکثر شرکت کر نیوالے مدعوین ڈاکٹر سلام اور پروفیسر برائن (بعد میں لارڈ) ہوا کرتے تھے۔یہ اجلاس اس بات پر فتح ہوئے کہ ۱۹۵۸ء میں عبد السلام میرے ڈاکٹریٹ کے مقالہ کیلئے ایکسٹرنل ایگزیمز مقرر ہوا۔باوجود اس کے کہ میں ایکس پیری مینٹل فنزے