مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 318 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 318

(۳۱۸) ڈاکٹر سلام نے ایک مضمون پاپولر آڈیفنس کیلئے لکھا تھا جس میں انہوں نے یونی فی کیشن آف فورسز کا ذکر کرتے ہوئے وحدت الوجود کے نظریہ کا ذکر کیا تھا۔پھر ایک بار ٹیلی ویژن پر انٹرویو میں انہوں نے بیان کیا کہ کس طرح و field symmetrya کے کن سمیٹ کیلئے با دشاہی مسجد کے بلند میناروں سے انسپائر ہوئے تھے۔اور ایک بار واہ کے شہر میں جنرل طلعت محمود کی دعوت پر دئے گئے لیکچر میں سلام نے کہا تھا کہ دنیا شاید dimensions 11 گیارہ ابعاد) کی ہے اور اس طرف بھی اشارہ کیا کہ شاید ان میں سے سات ابعاد کا تعلق غائب سے ہے۔پروفیسر ایم اختر، ڈی پارٹمیٹ آف بائیو کیمسٹری، یونیورسٹی آف ساؤتھ ہمپٹن، برطانیہ نے بیان کیا۔پروفیسر سلام نے ارادہ کیا کہ کلب آف روم کی طرز پر مسلمانوں کا بھی ایک کلب بنایا جائے جس کا نام انہوں نے امۃ العلم فی الاسلام رکھا۔اس ضمن میں انہوں نے وی آنا ( آسٹریا) میں تمام شرکاء کی ایک میٹنگ کے انعقاد کے دعوت نامے جاری کئے جو ۲۸ ستمبر ۱۹۸۱ء کو منعقد ہو نا تھی۔اندازہ تھا کہ پچاس کے قریب ممبر ضرور وہاں آئیں گے، اور اس تجویز کی حمایت تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک ضرور کریں گے۔پروفیسر عبد السلام کے اصرار پر میں بھی وی آنا پہنچ گیا۔جب میں وی آنا میں اقوام متحدہ کے ادارے UNIDO کے صدر مقام پر میٹنگ کیلئے پہنچا تو یہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی کہ وہاں صرف چار یا پانچ افراد موجود تھے اور وہ بھی ایسے جو دی آنا میں اپنے ممالک کے سرکاری کاموں کی وجہ سے شہر میں پہلے ہی موجود تھے۔افسوس کہ عبد السلام کا وہ سنہری خواب کہ سائینس الخوارزمی اور ابن سینا جیسے سائینسدانوں کے ممالک میں دوبارہ زندہ ہوشرمندہ تعبیر نہ سکا۔www۔ias۔ac۔in/currsci/oct252001/contents۔Current Science vol 81, No 8, 25 Oct 2001 ڈاکٹر عبد السلام ( نوبل انعام یافتہ ) اور احمد حسن زیویل ( نوبل انعام یافتہ ) میں مماثلت: اول الذکر کو فزکس میں انعام ۱۹۷۹ میں ملا جبکہ مؤخر الذکر کو کیمسٹری میں انعام ۱۹۹۹ء میں ملا۔سلام کی پیدائش ۲۹ جنوری ۱۹۲۶ کو ہوئی جبکہ احمد کی پیدائش ۲۶ فروری ۱۹۴۶ کو ہوئی۔سلام نے کیمبرج