مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 23 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 23

(۲۳) بھی پسند کرتے تھے۔ہمارے پٹنی Putney والے مکان میں آنیوالے احباب اس بات کی تائید کریں گے کہ بڑا تر کہ جو ہمارے ابی ہم سب کیلئے چھوڑ گئے وہ کتابیں ہی تو ہیں یعنی علم سے محبت کا ورثہ۔ان کی علم کی اشتہاء کبھی کم نہ ہوئی۔یہ ان کی عظیم شخصیت کا مستقل جزو تھا ان کی لائیبریری میں قسم ہا قسم کی کتا ہیں تھیں مثلا Teach yourself Russian, Teach yourself Air Navigation وغیرہ وغیرہ ہمارے ہاں انگلش ، اطالین ، ڈکشنریاں بھی تھیں جو کبھی استعمال نہ ہوئیں۔میں چاہوں تو بہت سے صفحات اور لکھتا جاؤں لیکن ان کے مثالی کردار کے ایک خاص قابل ذکر وصف کا تذکرہ کر کے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔زندگی کے آخری حصہ میں جب ان کی بیماری شدید ہو گئی اور طول پکڑ گئی تو انہوں نے صبر کے ساتھ سب کچھ برداشت کیا۔آزاد منش زندگی گزاری۔آخر پر دوسروں کے سہارے کے محتاج ہو گئے یہ ان کیلئے بہت مشکل مرحلہ تھا۔اپنی تکلیف کا علم بہت کم لوگوں کو ہونے دیا علالت کو اللہ تعالیٰ کی مشیت سمجھا اور صبر سے برداشت کیا۔کبھی ناراضگی یا حرف شکایت زباں پر نہ لائے بلکہ بہادری اور جواں مردی سے مقابلہ کیا تکلیف اور درد کی شدت میں بھی غصہ اور پریشانی کی کوئی بات نہ کی۔(نوٹ : یادر ہے کہ ڈاکٹر صاحب ۱۹۸۹ء کے لگ بھگ وہیل چیر استعمال کرنے لگ گئے تھے، اپنے ہاتھ سے لکھ بھی نہ سکتے تھے۔جب علالت بڑھ گئی تو بستر سے اٹھ نہ سکتے تھے پھر وہ دن بھی آیا کہ قوت گویائی سے محروم ہو گئے۔مؤلف ) اس بات پر ہی اس مضمون کو اب ختم کرنا مناسب ہے کیونکہ قادر مطلق پر ایمان اور اور اسکی مشیت اور رضا پر راضی رہنے کا طریق ابی جان کی زندگی کا بنیادی اور اولین اصول تھا۔یہ ان کی زندگی کا لب لباب تھا اور وہ آخری دم تک اس پر مستقل مزاجی سے قائم رہے۔( ترجمه شمیم احمد خالد، ہفت روزہ الفضل انٹر نیشنل لندن ۲۸ جولائی ۲۰۰۰ء) XXX