مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 298
find Salam back at his table working as if nothing had disturbed him (۲۹۸) جنرل یحیی خان کے دور حکومت میں ایم ایم احمد فنانس سکرٹری تھے۔ایک بار وہ لندن آئے اور ڈاکٹر سلام کے گھر چٹنی میں قیام کیا۔اس قیام کے دوران سلام نے ان کو قائل کر لیا کہ وہ پاکستان سائینس فاؤنڈیشن کے قیام کے لئے ایک کروڑ روپیہ مختص کریں جو بعد میں پچاس لاکھ روپیہ کر دیا گیا۔یہ ۷۰۔۱۹۶۹ کی بات ہے۔14- ڈاکٹر سلام کو خدا تعالیٰ نے غضب کے حافظہ سے نوازا تھا۔جب سلام گورنمنٹ کالج لاہور میں طالب علم تھے تو طلباء کو اس چیز کا بخوبی علم تھا۔پروفیسر ڈاکٹر وحید قریشی اس وقت ان کے ہم جماعت تھے۔ایک روز طلباء کا ایک گروپ انار کلی بازار یونہی گھومنے گیا جب وہ بازار کے ایک طرف سے گھومتے ہوئے دوسری طرف پہنچ گئے تو وحید قریشی نے سلام سے پوچھا کہ کیا وہ بازار کے دائیں طرف کی ہر دکان پر لگے ہوئے بورڈ پر لکھے نام کو دہرا سکتے ہیں؟ قریشی صاحب حیران رہ گئے جب سلام نے نوے فی صد نام یک لخت دہرادئے۔سلام کو اس ٹیسٹ کا بازار میں داخل ہونے سے پہلے بتلا یا نہیں گیا تھا۔جب بھٹو گورنمنٹ نے پاکستان میں احمد یہ جماعت کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دے دیا تو ڈاکٹر سلام نے بہ حیثیت سائینسی مشیر وزیر اعظم کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔اور کہا کہ جہاں تک ملاؤں کا تعلق ہے میں اس ضمن میں بوعلی سینا کے مرتبہ کا ہوں جس کو اسکے زمانے کے ملاؤں نے کافر قرار دیا تھا۔اس ضمن میں آپ نے ابن سینا کے یہ فارسی رباعی پیش کی: کفرے چومن گزاف آسان نبود محکم تر از ایمان من ایمان نبود درد ہر چومن یکے و آنہم کافر پس در همه د هر یک مسلمان نبود 19_ ڈاکٹر سلام کے طالب علمی کے زمانے میں سر ظفر اللہ خاں نے ان کی پڑھائی کے سلسلہ میں نصیحت کی: (۱) اپنی صحت کی طرف خاص توجہ رکھو۔بجائے کتابوں کا کیڑا بننے کے چینی نشود نما کی طرف