مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 297 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 297

(۲۹۷) کیونکہ اس کے ساتھ ڈایا گرام نہیں تھیں۔اوپن ہائیمر کے چہرہ کا رنگ بزی طرح بدل گیا مگر اس نے صرف اس قدر کہا اس کے نتائج بہر حال درست ہی ہیں اور وہ ڈایا گرام کے بغیر بھی سمجھ آ جاتا ہے۔۱۵ ۱۹۵۶ء میں پروفیسر بلیک ایٹ امپرئیل کالج لندن میں فزکس ڈیپارٹمنٹ کے چیئر مین تھے ان کو کالج کے تھیوریٹیکل ڈیپارٹمنٹ کیلئے چیر مین کی تلاش تھی۔پروفیسر ہانس بیتھ Bethe نے اس کو کہا کہ وہ پر وفیسر سلام کو اس چیز کیلئے منتخب کر لیں۔چنانچہ انہوں نے سلام کو پیشکش کر دی۔البتہ ڈاکٹر سلام کو پروفیسر ٹیمپل Temple کے سامنے انٹرویو کیلئے حاضر ہونا تھا جو کہ ایڈنگٹن کے معترف تھے۔انٹرویو کے دوران ٹیمپل نے ڈاکٹر سلام سے پوچھا کہ ان کی رائے ایڈ منٹن کی اسٹرانومی پر کتاب کے بارہ میں کیا ہے؟ سلام کی رائے کچھ اچھی نہ تھی مگر چونکہ ان کو ٹیمپل کی رائے کا علم تھا ، اس لئے یوں جواب دیا: I had not read the book with the detachment of a neutral mind۔Professor Temple smiled and said: Young man, you should go to diplomatic service۔۱۶ ایک بار سرظفر اللہ خان نے ڈاکٹر سلام کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستان کی شہریت کے ساتھ برطانیہ کی شہریت بھی حاصل کر لیں۔لیکن سلام نے یہ مشورہ قبول کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ جب ان کو نوبل انعام ملے تو اس کا سہرا کسی اور ملک کو جائے۔اسی طرح جب لندن سے ڈاکٹر سلام ۱۹۵۱ء میں لاہور واپس آئے تو انہوں نے پروفیسر قاضی محمد اسلم ( سابق پرنسپل گورنمنٹ کالج لاہور) کے ہاں رہائش اختیار کی۔قاضی صاحب نے اس دور کا یہ مشاہدہ سنا یا Salam worked very hard but never gave the impression of working hard Whenever one entered his room, one would find Salam working at his table۔But he would immediately stand up to converse with you with complete ease and delight until one begged for leave۔And after leaving his room, if one cared to peep back, one would