مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 299 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 299

(۲۹۹) توجہ دو (۲) کالج میں جو لیکچر پروفیسر نے کل دینا ہے وہ آج اچھی طرح دیکھ کر جاؤ تا اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے اور گھر آکر اسے دہراؤ۔(۳) اگر سفر کا موقعہ ملے تو اس کا علمی رنگ میں فائدہ اٹھاؤ چاہے محض سیر و تفریح کے رنگ میں، یا علمی مجالس سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے۔گھر سے نکل کر دوسرے علاقے دیکھنے سے دماغی وسعت پیدا ہوتی ہے۔جو کہ بجائے خود تعلیم ہے۔There is nothing more destructive of morale than economic inequality۔(Dr۔Salam) ڈاکٹر عبد السلام کے چند ایک نامور شاگرد والٹر گلبرٹ (امریکہ)۔ڈاکٹر ریاض الدین (پاکستان)۔ڈاکٹر غلام مرتضیٰ (پاکستان)۔ڈاکٹر مجاہد کامران( پاکستان) ڈاکٹر فیاض الدین (پاکستان) Dr۔M۔J۔Duff (امریکہ )۔ڈاکٹر منیر رشید (پاکستان) - Yuval Neeman Yuval ٹیکساس یو نیورسٹی۔جے۔سی ٹیلر ( کیمبرج)۔رائلڈ شاء Shaw۔( ڈرہم یو نیورسٹی)۔J۔Polkinghome( کیمبرج یونیورسٹی مصنف Belief in God in an age of science )۔ڈاکٹر فہیم حسین (پاکستان)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۲ ۱۹۸۸ء میں ڈاکٹر عبد السلام نے برطانیہ میں ڈائیر اک میموریل لیکچر دیتے ہوئے بتلایا کہ بچپن میں (۱۹۳۶ء) انکا تعارف فطرت کی چار قوتوں کے بارہ میں ان کے ٹیچر سے ہوا۔پہلے تو اس نے گر یویٹی ( یعنی قوت ثقل) کے بارہ میں بتایا۔ہر کوئی اس کے بارہ میں شدھ بدھ رکھتا تھا کیونکہ نیوٹن جیسے سائینسدان کا نام جھنگ جیسے شہر میں بھی ہر ایک کو معلوم تھا۔پھر اس نے مقناطیسی قوت کے بارہ میں ہمیں بتلایا اور اسکے ساتھ ہمیں ایک مقناطیس بھی دکھلایا۔پھر اس نے الیکٹریسٹی کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ جھنگ میں نہیں پائی جاتی بلکہ یہ لاہور میں پائی جاتی ہے جو کہ ایک سومیل دور تھا۔آخر پر اس نے نیوکلئیر فورس کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ فورس یوروپ میں پائی جاتی ہے انڈیا میں نہیں، اس لئے ہمیں اس کے بارہ میں فکر کر نیکی