مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 19 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 19

(19) ابی جان اپنے والدین کی شخصیت سے بھی بہت متاثر تھے۔خصوصاً اپنے والد گرامی کے نظم و ضبط اور اعلیٰ کردار سے نیز اپنی ماں کی بے لوث محبت سے۔ان کے والد مضبوط شخصیت کے مالک تھے اور حسب موقعہ سخت نظم وضبط کے خوگر تھے۔ابی اپنے والدین کا بہت خیال رکھتے تھے اور یہی چیز انہوں نے مجھے اور میری چاروں بہنوں کو سکھائی۔ان کی حتمی رائے تھی کہ ہم والدین کی دعاؤں کے ہمہ وقت محتاج ہیں اور وہ ہمارے بہترین خیر خواہ ہوتے ہیں۔انہوں نے ہمیں اپنے عملی نمونہ سے بتا دیا کہ والدین کی خدمت اولین فرائض میں سے ہے یہ وہ امر ہے جس کی ہم سب کو ہمہ وقت یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ورثہ کی اہمیت ابی جان نے مجھے شایستگی اور آداب سکھائے۔ان سے میں نے مہمان کو خواہ کوئی بھی ہو خوش آمدید کہنا سیکھا اور انکی خدمت کرنا سیکھا۔مجھے یاد ہے وہ اپنے کار ڈرائیور کی ہمیشہ کھانے یا مشروب سے تواضع کرتے اور اسے کار میں بیٹھ کر انتظار نہ کرنے دیتے۔ہر مہمان کو پوری محبت اور عزت دیتے اور اس امر کا خیال رکھتے کہ مہمان کون ہے اور کسی طبقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ابی جان نے مجھے اسلام کی اہمیت کا احساس دلایا نیز احمدیت پر یقین اور اپنے راجپوت ورثہ کا بھی۔وہ مجھے خاندانی عسکری روایات بھی بتاتے اور دیانت، امانت ، طاقت اور ذہانت کی ریت کا بھی۔ابی جان ایک بڑے تاریخ دان بھی تھے۔صرف اسلامی تاریخ کے نہیں بلکہ پوری تاریخ انسانی کے۔تاریخ پڑہنا انکا محبوب مشغلہ تھا۔سوانح عمریوں میں دلچسپی رکھتے تھے۔خواہ وہ نپولین کی ہو، یا چرچل یا گاندھی اور شارلے مان کی ، بڑے لوگوں کی شخصیت میں رہ نمائی مستقل مزاجی، پیش بینی ، اور منصوبہ بندی کا عصر نمایاں ہوتا ہے۔وہ ان کے تجربات سے سبق سیکھتے۔عظمت کے حصول کیلئے کاوش اور وقت کے زباں سے اجتناب اہم اصول ہیں۔ابی کسی بڑی شخصیت سے ملاقات کرتے تو بلعموم مجھے بھی ساتھ بٹھا لیتے۔ان کی خواہش ہوتی تھی کہ میں بڑوں کی صحبت سے فائدہ اٹھا ؤں نیز دوستوں کا سوچ سمجھ کر انتخاب کروں۔لندن جب بھی آتے تو مسجد فضل ضرور جاتے اور نماز ادا کرتے۔لیکن نماز کے بعد جلد گھر