مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 18 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 18

(۱۸) فرما دیتے وہ ہمارا بہت خیال رکھتے اور ہر ممکن ذریعہ سے ہماری مددفرماتے۔میرے پیارے ابی کو کیسے یقین تھا کہ وہ ہمیں تھوڑا وقت دے کر پورا فائدہ اٹھا سکیں گے؟ دراصل انہیں تسلی ہوتی تھی کہ ان کی مصروفیت میں کوئی وجود ایسا تھا جو ان کے بچوں کی پوری طرح دیکھ بھال کر سکے۔نہ صرف جسمانی پرورش، بلکہ اخلاقی اور روحانی پرورش بھی۔اور وہ تھیں ہماری والدہ صاحبہ جو ہماری پرورش اور دینی تربیت کیلئے پوری راہبر ہوتی تھیں۔اور اس شعبہ میں وہ بہت کامیاب تھیں۔محاورہ ہے کہ ہر عظیم مرد کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے۔یہ بلکل درست ہے چنانچہ ابی جان میری بہنیں اور میں اپنی والدہ کے مقروض ہیں۔ابی کو پورا احساس تھا کہ اگر وہ چاروں بچوں کی اعلیٰ پرورش کی صلاحیت نہ رکھتیں گھر چلانے کا مشکل کام نہ کرتیں، اور وہ تمام دوڑ بھاگ نہ کرتیں جو بلعموم خاوند کرتا ہے جبکہ وہ اس کے ساتھ ساتھ (عورتوں کی تنظیم ) لجنہ اماء اللہ کی نیشنل پریذی ڈنٹ بھی تھیں تو وہ کبھی بھی اپنے عظیم مقاصد کے حصول میں کامیاب و کامران نہ ہو سکتے۔ہماری والدہ کی وجہ سے وہ تسلی اور آزادی سے اپنے مشن اور ریسرچ کے کام میں مصروف رہے۔اور گھریلو مصروفیات ان کے آڑے نہ آئیں۔میں ابی جان مرحوم۔اپنی بہنوں اور اپنی طرف سے امی جان کا مشکور ہوں کہ انہوں نے ابی جان کے تقاضوں کا صحیح اندازہ کر کے ضروری مدد مہیا کی اور ایک کھٹن فرض کو بہت خوش اسلوبی سے ادا کیا اور اب بھی نبھا رہی ہیں۔ابی جان نے مجھے بعض باتیں سکھا ئیں جو میری شدید خواہش ہے کہ میرے بچے بھی سیکھیں۔اول تو یہ کہ انسان کو اپنے او پر مکمل اعتماد ہونا ہے۔اور یہ ایمان ہونا چاہئے کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے وہ فی الواقعہ درست ہے اور اگر وہ عمل واقعی ایسا ہی ہے تو پھر جرات اسے کر گزرنا چاہئے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک بار انہوں نے مجھے نصیحت کی: دوسروں کی پرواہ مت کرو کہ وہ کیا سوچیں گے اصل بات تو یه هے که تم کیا سو چتے ھو ؟ اگر تم اسے درست سمجھتے ھو تو کر گزرو۔ایک چودہ سالہ بچے کیلئے یہ نصیحت ولولہ انگیز تھی۔