مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 17
(۱۷) کتنے بچے ہیں؟ تو وہ جواب دیتے کئی ہزار۔یہ وہ بچے تھے جو آئی سی ٹی پی کے ذریعہ انکے پاس پہنچتے تھے میہ وہ بچے تھے جن سے اب میری ملاقات ہوتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے ان کیلئے کیا پاپڑ نہ بیلے۔انہیں مالی امداد کے علاوہ کتنی حوصلہ افزائی کی، اور ان میں کتنا جذ بہ پھونکا،۔اب احساس ہوتا ہے کہ ان بچوں کو اتنا وقت اور توجہ دینا کتنا ضروری تھا۔بہر حال ہم باپ بیٹے کیلئے مشکل تھا کہ ان کے لندن میں چند گھنٹے کے قیام کے دوران ہمارے با ہمی رشتہ کی پیاس کا خاطر خواہ انتظام ہو سکتا۔اسی لئے میرے بچپن میں ضروری تھا کہ میں ان مختصر ملاقاتوں سے پورا پورا فائدہ اٹھاتا۔مجھے یاد ہے کہ جب میں چھ سال کا تھا تو جب بھی وہ لندن آتے میں اپنا بستر ان کے کمرے میں لے جاتا۔تا کہ ان کے ایک روزہ قیام کے دوران ان کے ہمراہ زیادہ سے زیادہ وقت گزار سکوں۔اب احساس ہوتا ہے کہ وہ کیوں مجھے کہا کرتے تھے کہ میں انہیں امپر تیل کالج لے جاؤں یا ائر پورٹ چھوڑ آؤں ، تا یوں وہ میرے ساتھ کچھ مزید وقت گزار سکتے۔کار میں ہم سفرکی کے دوران مجھے وہ اپنی سوچ، خیالات، اور رہ نمائی سے نوازتے۔انجانے طور پر ان سے قیمتی سبق سیکھتا۔ایسے موقعوں پر وہ مجھے بتاتے کہ چیز میں کیسے کام کرتی ہیں؟ مثلاً کار کا انجمن ، انسان کا دل ، یا ریاضی کا کوئی پرابلم۔یا پھر کسی مشہور راجپوت شہسوار یا راج کمار کی کہانی سناتے۔ہم دونوں کیلئے یہ لمحات بہت اہم ہوتے ، ہم دونوں ان سے اکیلے میں بہت ہی لطف اندوز ہوتے تھے۔بچوں کی پرورش چنانچہ جب وہ لندن آتے ان کا اصرار ہوتا کہ ہم ایک ڈنرا کھٹے کھا ئیں۔کھانے کے دوران وہ ہم سے باری باری پوچھتے کہ سکول کیسے چل رہا ہے؟ تعلیم میں کیسے ہو؟ یا کوئی مسئلہ ہے جس میں ہماری رہ نمائی کر سکتے۔میں چونکہ سب سے چھوٹا بچہ تھا اس لئے میری باری سب سے آخر پر آتی اور یہ گفتگو بلعموم کھانے کے بعد ان کے کمرے میں ہوتی۔وہ تب تک بستر میں ہوتے ان کا کمرہ گرم ہوتا سوائے ایک لیمپ کے باقی کے بتیاں بجھ چکی ہوتیں۔اور کمرے میں اگر بتیوں کی دن سے بچی کچھی خوشبو سے ماحول بہت خوشگوار ہوتا۔مجھے یاد ہے وہ میرے مسائل کی تہ تک فوراً پہنچ جاتے اور انہیں ایک لمحہ میں حل