مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 16
(14) جان سے پیارے میرے ابی ) درج ذیل مضمون احمد سلام نے ایک کتاب کیلئے لکھا تھا جب سے مجھے ٹیسٹ (اٹلی) سے ڈاکٹر ھے مینڈ Hamende کی فیکس ملی ہے کہ کیا میں اپنے ابی جان کی یادوں پر مبنی کتاب کیلئے کچھ لکھنا پسند کروں گا۔میں اس شش و پنج میں ہوں کہ اپنے ذہن میں واضح ہو جاؤں کہ میں کیا لکھنا چاہتا ہوں۔لکھنے کیلئے تو بہت کچھ ہے لیکن میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسی چند یادوں پر مبنی مضمون لکھوں جس سے اندازہ ہو سکے کہ میرے جان سے پیاری ابی کیسے غیر معمولی انسان تھے۔مزید برآں ان کی ذاتی پرسنل لائف کے بارے میں بھی کچھ عرض کروں۔اگر یہ معروضات بے جوڑ لگیں تو میں معذرت خواہ ہوں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے دو بیٹوں سے نوازا ہے میں انہیں بڑے ہوتے اور ترقی کرتا دیکھتا ہوں اور ان کی پرورش اور تربیت سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔یقیناً میرے ابی جان کو بھی اپنے بچوں کی قربت کی نعمت کا پورا احساس تھا لیکن اپنے عظیم مقاصد کے حصول کیلئے انہوں نے اس معاملے میں بہت قربانیاں دیں۔ایک دفعہ ہمارے گھر میں بھی اس بات کا تذکرہ ہوا کہ اس بڑے مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے تنہائی اور خلاء کو برداشت کیا۔اور وہ مقصد دوسروں کے ضرورت مند بچوں کی پرورش تھا۔انہیں ان کی ضروریات کا شدت سے احساس تھا ہمارے پاس تو ہماری امی جان بھی تھیں اور ضروریات زندگی بھی وافر۔لیکن ان بچوں کو میرے ابی کی توجہ، رہ نمائی اور شفقت کی ضرورت زیادہ تھی۔ابی جان کو چونکہ اپنے والد محترم کی مشفقانہ راہ نمائی اور محبت سے بہرہ مند ہونے کا ذاتی تجربہ تھا اس لئے انہیں اولاد کیلئے پدرانہ شفقت کی ضرورت کا پورا احساس تھا۔اور انہیں یہ بھی یقین تھا کہ ان کے بچوں کی اصل حفاظت اور تربیت تو اللہ تعالیٰ نے ہی کرنی ہے لہذا وہ دعا کی طرف بہت توجہ دیتے تھے۔ایک بارابی کے ایک قریبی دوست نے مجھے بتلایا کہ ابی سے جب بھی پوچھا جاتا کہ ان کے