مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 222
(۲۲۲) ڈاکٹر سعادت انور صدیقی ( پنجاب یونیورسٹی، لاہور ) ضوریز شخصیت ه یز : پر و فیسر عبد السلام اب اس دنیا میں نہیں رہے۔میں نے خود ان کا چہرہ ایک سفید تا بوت میں بند شیشے کی ایک کھڑکی کے راستے دیکھا ہے۔جو میت کے دیدار کیلئے دار لذکر میں رکھا گیا تھا۔یہ وہ چہرہ نہیں جس سے میں واقف تھا۔وہ چہرہ تو بہت تو انا اور شاداب تھا۔جس میں عزم اور ہمت کی آنچ میں دہکتی ہوئی دو تیز متحرک آنکھیں تھیں جنہیں اپنی تابانی اور جولانی برقرار رکھنے کیلئے ایندھن کی کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔پروفیسر سلام کے سینے میں ہزاروں بلکہ لاکھوں منصوبوں کے چراغ روشن رہتے تھے جس کے الاؤ کی روشنی اور تپش ان کی آنکھوں کے جھروکوں کے راستے ماحول کو روشن کر دیتی تھی۔منصوبے کیا تھے ان کی لگن کیا تھی اور ان کا مقصد کیا تھا؟ اس کا اندازہ مجھ جیسا شخص بخوبی کر سکتا ہے جس کے عزم کی دنیا میں بھی ایک ننھا سا چراغ ٹمٹما تا رہتا ہے۔جس کی لو لمحے سمجھنے کیلئے کبھی دا ئیں اور کبھی بائیں پھڑکتی رہتی ہے۔اس نھے چراغ کی پہلی خواہش تو یہی ہے کہ یہ کبھی بجھنے نہ پائے اور دوسری یہ کہ اس کی روشنی میں اور اضافہ ہو اور یہ روشنی اتنی بڑھے کہ باہر کی دنیا بھی دیکھ سکے۔ایسے کتنے ہی چراغ تیسری دنیا کے ہزاروں سائینس دانوں کے سینوں میں بھی فروزاں ہیں۔عبد السلام کی ضوریز شخصیت سے ہم اپنے سینوں کے شبستانوں کو بقعہ نور بنا دیتے ہیں۔پسماندہ ممالک کی ناقص اقتصادی ، سائینسی تعلیمی پالیسیوں ، سائینس کی ترویج کیلئے نہایت قلیل رقوم تعلیمی وتحقیقی سہولیات کی عدم موجودگی ، کام کرنے کیلئے مناسب اور موزوں حالات کی کمی ، اور سب سے بڑھ کر اقتصادی اور سماجی ترقی کیلئے تعلیم اور سائینس کے کردار کی اہمیت سے روگردانی سے بھر پور مخالف ہوا ئیں جب زور پکڑتی ہیں تو یہ سائینس دان آسودگی کی تلاش میں انٹر نیشنل سینٹر فارتھیو رٹیکل فزکس کا رخ کرتے ہیں، جہاں پر وفیسر سلام ان سب کو ایک شفیق بزرگ کی طرح اپنی پر خلوص حفاظت میں لے لیتے ہیں۔ان کو وہ