مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 223 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 223

(۲۲۳) تمام سہولیات مہیا کرتے ہیں جو ایک سائینسدان کو اپنے علمی معیار کو بلند کرنے اور اس میں چینی وسعت پیدا کرنے کیلئے نہایت ضروری ہوتی ہے۔یہاں آکر احساس ہوتا ہے کہ ہم بھی ترقی پذیر دنیا میں بسنے والے قابل احترام اور مفید انسان ہیں۔انسانی زندگی اور ماحول کو بہتر بنانے میں ہمارا بھی کوئی مسلمہ کردار ہے جس سے ہماری قوم نا واقف ہے۔اور وہ تمام سہولیات جو ہمارے تحقیقی اور علمی کاموں کو جاری رکھنے اور اجاگر کرنے کیلئے اشد ضروری ہیں ہمیں بلا معاوضہ اور کثرت سے میسر ہیں۔آئی سی ٹی پی کے ادارے میں طعام و رہائش کا بندو بست، بہترین لائیبریری، اور کمپیوٹر کی سہولت، جدید ترین آلات عملی تجربہ گا ہیں اور سب سے بڑھ کر ترقی یافتہ ممالک کے ممتاز سائینسدانوں کے ساتھ براہ راست ملاقات اور ان سے بحث و مباحثہ کا ایک ایسا بندو بست ہے کہ جس کا تصور ترقی پذیر دنیا میں بھی نہیں کیا جا سکتا۔جہاں رہائش وہیں سیمینار، مذاکرے اور ورک شاپس، اب تو صرف سائینس دانوں کی اپنی ہمت ہے۔یہ وہ ادارہ ہے جہاں سائینسدان اپنے ننھے چراغ اپنے سینوں سے نکال کر بے خوف و خطر با ہر رکھ سکتے ہیں۔یہ چراغ راہ گزار باد نہیں ، ایسے ماحول میں رہ کر ان کو اتنا سوز ملتا ہے کہ وہ اپنی ممالک میں آکر بھی اس کی تابانی محسوس کرتے ہیں۔میری عزت سلام کی وجہ سے آج تیسری دنیا میں بسنے والے مجھ جیسے سائینسدان پروفیسر عبد السلام کی موت پر کیوں آزردہ ہیں؟۔کیا اس لئے کہ وہ نوبل انعام یافتہ تھے اور انہوں نے طبیعات کے ایک بہت اہم گتھی سلجھائی تھی۔نہیں میرے خیال میں اس لئے کہ وہ باقی تمام نو بل انعام یافتہ سائینسدانوں سے یک سر مختلف تھے۔عظمت کے اس مقام تک پہنچنے کیلئے ایک ترقی پذیر ملک میں رہتے ہوئے انہوں نے جو مشکلات اور مصائب جھیلے وہ نہیں چاہتے تھے کہ دوسرے لوگ بھی اس کا شکار ہوں۔آئی سی ٹی پی جیسے ادارے کے قیام کو ایک دیوانے کا خواب کہا جائے تو بے جانہ ہوگا۔مگر جب لگن میں خلوص اور مصمم ارادہ ہو تو ایسا خواب ایک پاکستانی سائینسدان کے ہاتھوں بھی پورا ہو سکتا ہے۔