مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 221 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 221

(۲۲۱) آباد کے قریب ہوئی تھی۔میرے نزدیک جہاں تک اعداد و شمار کا تعلق ہے وہ ہمیں Per capita کے لحاظ سے دس سے ایک کے فرق سے شکست دیتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں علم حاصل کرنے کی امنگ بہت زیادہ ہے۔ہمارے پروفیسر ز تو سول سرونٹ بن چکے ہیں وہ تمام سہولتیں چاہتے ہیں جیسے کار، بیگم کے زیورات، اپنے بچوں کیلئے تمام سہولتیں۔بعض دفعہ مجھے خیال گزرتا ہے کہ اسلام نے کو ختم کر کے ہمیں نقصان میں ڈالا ہے کیونکہ جب اصلی سکالرز موجود نہ تھے تو یہ خود ساختہ مذہبی اجارہ دار پیدا ہو گئے۔:سوال سر۔پاکستان کے سائنسدانوں کیلئے آپ کا کوئی پیغام؟ Priest class جواب: میرا پیغام تمام قوم کیلئے ہے صرف سائینسدانوں کیلئے نہیں ہے۔اس ضمن میں ایک جنرل آبزرویشن کرتا ہوں۔ہماری قوم ایک عظیم قوم ہے۔ہماری ٹریجڈی یہ ہے کہ ہم کو اس کا احساس نہیں ہے اور ہم ایک چھوٹی قوم کی طرح کام کر رہے ہیں۔ہماری تعداد استی ملین ہے کرہ زمین پر جملہ قوموں میں سے ایک بڑی قوم جس کا سائز جاپان کے برابر ہے۔ہمارے شہریوں میں قابلیت فرسٹ کلاس کی ہے۔ہماری قوم میں فرسٹ کلاس کی اہلیت ہے بشر طیکہ یہ ڈیویلیپ کی جائے۔میں یہ بات تجربہ کی بناء پر کہ رہا ہوں میں نے مختلف قوموں کے طلباء کی ریسرچ کا سپر وائز کرنے کے بعد یہ کہا ہے۔میری جوانی کے زمانہ میں لوگ کہا کرتے تھے کہ مسلمان ریاضی اور اکاونٹس میں کبھی بھی فوقیت حاصل نہیں کر سکتے۔لیکن اب مڈل ایسٹ کو لیں وہاں تمام بینکنگ پاکستانیوں نے سنبھالی ہوئی ہے۔لوگ کہا کرتے تھے کہ پاکستانی انفرادی طور پر تو کام کر سکتے لیکن ٹیم بن کر نہیں۔پاکستان سے باہر یہ بلکل سچ نہیں ہے۔وئیز نیوالا کے وزیر اقتصادیات نے کہا تھا ورلڈ بینک کو پاکستانی مافیا چلا رہا ہے اور یہ بات محبوب الحق کے آئی ایم ایف چھوڑ کر پاکستان آنے سے قبل کی ہے۔جاپانیوں نے مجھے بتلایا کہ ان کی ترقی کا راز خوشنویسی (calligraphy) میں ہے اس قوم کے لوگ جو پوری سورۃ چاول کے ایک دانے پر لکھ سکتے تھے کیا ترقی نہیں کر سکتے ؟