مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 207 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 207

(۲۰۷) میں نے میتھ میں انڈر گریجوئیٹ کا کورس دو سال کا بھی کیا ہوا تھا۔چنانچہ مجھے بعض کو رسز نہ لینے پڑے۔میرے اور ان انگریز طالب علموں فرق یہ تھا کہ وہ نیوٹن اور میکس ویل کو اپنا ہم پلہ جانتے تھے ان کے اساتذہ نے ان میں یہ بات ذہن نشین کی تھی کہ وہ بھی نیوٹن بن سکتے ہیں۔سوال فزکس میں آپ نے پڑہائی کیسے شروع کی؟ جواب فزکس کی پڑھائی میں نے دوسرے سال میں شروع کی۔میں نے اپنے موضوع کے علاوہ اور بہت بہت سے لیکچر بھی سنے ان میں سے بہت سارے فزکس کے تھے۔ان دنوں فزکس کے بہت سارے سر کردہ پروفیسر اور سائینسدان کیمبرج میں کام کر رہے تھے یا بعض ایک وہاں لیکچر دینے آتے تھے مجھے اب تک یاد ہے ان میں سے ایک ایسا پروفیسر بھی تھا جس کو ۱۹۴۹ء میں نوبل انعام ملا۔اس نے ایک لیکچر دیا جو میں نے سنا اور جس کی وجہ سے میں بہت fascinate ہوا۔لیکن مسئلہ یہ تھا کہ میں نے تو فزکس میں بی ایس سی بھی نہیں کی ہوئی تھی۔چنانچہ اس کمزوری کو کیسے دور کیا جاتا؟ میرے پاس تین سال کا وظیفہ تھالہذا میں نے دو سال تو میتھ پڑھا اور مجھے یہ سہولت تھی کہ یا تو میں ایک سال کا ایڈوانس کورس کرلوں یا پھر فزکس کی پڑھائی کروں۔چنانچہ میں اپنے پروفیسر ( فریڈ ہوئیل) کے پاس گیا۔اور اس سے پوچھا آیا میرے لئے فزکس لینا مناسب ہو گا؟ اس نے مجھے بہت اچھا مشورہ دیا اور کہا کہ میں اگر واقعی فرے سسٹ بننا چاہتا ہوں تو مجھے فزکس میں ایکس پیری مینٹل کورس کرنا چاہئے۔کیونکہ یہی ایک طریق پروفیشنل بننے کا تھا اور اس طریق سے میں دوسرے پروفیشنلو کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کر سکوں گا۔میں نے اپنے ٹیوٹر کو اس فیصلہ سے آگاہ کر دیا میرے پاس اب صرف ایک سال رہ گیا تھا۔یوں میرا فزکس میں جانا ہوا۔ایکس پیری مینٹل فزکس کا مجھے کوئی تجربہ نہ تھا چنانچہ یہ امتحان میرے لئے بہت مشکل کا باعث بنا۔میں ایک تھرڈ ریٹ ایکس پیری مینٹل تھا۔لیکن جس روز امتحان کا نتیجہ نکلا میں وہاں کھڑا بورڈ پر ریزلٹ شیٹ دیکھ رہا تھا۔وہاں اتفاقاً میرا استاد آ گیا اس نے پوچھا کیسے نمبر آئے؟ میں نے کہا فرسٹ کلاس تو اس نے کہا بعض دفعہ انسان دوسروں کے بارہ میں کیسی غلط قیافہ شناسی کرتا ہے۔پھر میرا سکالر