مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 128
(۱۲۸) التفات سے مجھے اپنے آفس میں مدعو کیا چنا نچہ اگلی صبح مجھے ان سے ملاقات کا اعزاز حاصل ہوا یہ ملاقات بعد میں زندگی بھر برقرار رہنے والی دوستی میں تبدیل ہو گئی میں نے ڈاکٹر سلام کے سامنے امریکہ اور یوروپ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوجوان سائینس دانوں کو اپنے ممالک واپس آکر پیش آمدہ نا امیدی سے بھر پور ریسرچ کے مسائل کا دکھڑا سنایا پروفیسر سلام نے مجھے مشورہ دیا کہ میں ان کی کتاب آئیڈیلز اینڈ ری ایلی ٹیز کالا زما مطالعہ کروں۔ڈاکٹر عبد السلام کی پیدائش جھنگ میں ہوئی جو پنجاب میں ضلع کا صدر مقام ہے اور پاکستان میں واقع ہے وہ پنجابی میں گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں۔انہوں نے مجھے اردو یا ہندی بولنے سے منع فرمایا انہوں نے کہا کہ بھارت میں پنجابی زبان سنسکرت زبان کے روپ میں ہے انہوں نے مجھے پروفیسر ہر گو بند کھورانا (ان کے علاقہ سے ایک اور پنجابی نوبل انعام یافتہ ) سے روم میں ایک بین الا قوامی کانفرنس میں ملاقات کا ذکر کیا کھو رانا نے انگلش میں بات چیت شروع کر دی تو پر و فیسر سلام نے قطع کلامی کر تے ہوئے اس کو کہا:۔تسیس اپنی ماں بولی پنجا بی وچ گل بات کیوں نئیں کر دے۔کھورانا نے اس پر بہانہ تلاش کرنا شروع کر دیا اور کہا کہ چونکہ وہ ایک عرصہ سے ) سوس خاتون سے شادی شدہ ہے اس لئے اس کیلئے پنجابی میں بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے مگر اس نے پروفیسر سلام کو یقین دلایا کہ وہ آئندہ ملاقات میں ان سے ضرور پنجابی میں گفتگو کرے گا۔ٹریسٹ میں میرے تین ماہ کے قیام کے دوران مجھے پروفیسر سلام سے ملاقات کے اور بھی مواقع میسر نصیب ہوئے وطن واپسی سے قبل میں کیمرہ سے ان کی یادگار تصویر ا تا رنا چاہتا تھا چنانچہ ایک موقعہ پر وہ کلاس روم میں بلیک بورڈ پر کچھ لکھ رہے تھے اور ڈاکٹر سٹرا تھاڑی Strathadee سے ریاضی کے کسی مسئلہ پر گفتگو کر رہے تھے یہ تصویر میرے لئے ہمیشہ حرز جاں اور متاع عزیز رہیگی۔1929ء میں راقم الحروف نے گرونانک دیو یو نیورسٹی امرتسر میں ملازمت اختیار کر لی تا وہاں فزکس کے نئے شعبہ کو قائم کر سکوں پر وفیسر عبد السلام اس ضمن میں میرے ریفری تھے انہوں نے مجھے وائس