مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 129
(۱۳۹) چانسلر کے نام سفارشی خط دیا جب ان کو یہ علم ہوا کہ ان کے عریضہ کو قابل خاطر نہیں سمجھا گیا تو وہ کسی حد تک خفا ہوئے اسی سال ان کو نوبل انعام دیا گیا تو میرے وائس چانسلر نے مجھے فون کیا جس نے یہ خبر بی بی سی لندن پرسنی تھی پاکستان اور بھارت دونوں ممالک میں خاص طور پر پنجاب میں ان کے نو بل انعام جیتنے کی خبر سے عوام الناس میں فخر کے جذبہ کا سیلاب رواں ہو گیا تھا۔اس خبر کے نشر ہونے کے بعد میں نے ایک روز بیالوجی کے دو گر یجوئیٹ طالب علموں کو ڈاکٹر سلام کی شہریت پر بحث کرتے دیکھا۔ایک طالب علم نے کھا۔دیکھو ایک پا کستانی نے نوبل انعام جیتا هے جبکه سات سو ملين بها رتيون ) سے سر سی وی رمن کے بعد کسی نے نھیں جیتا انعام دوسرے طالب علم نے جواب دیا : ایک پا کستانی کیسے نوبل انعام جيت سكتا ھے ھمیں ان کی ریسرچ کے معیار کا خوب علم ھے بلاآخر دونوں اس بات پر متفق ہو گئے کہ عبد السلام کا تعلق کیمبرج یونیورسٹی سے ہے۔فی الواقعہ عبد السلام نہ صرف ہندو پاک برصغیر کی نمائندگی کرتا تھا بلکہ تمام تیسری دنیا کے ممالک کی بھی۔اس انعام نے تھرڈ ورلڈ کے مصروف کار نوجوان سائینس دانوں کی ذہنی استعدادوں کو تقویت دی تھی۔آنریری ڈگریاں ۲۵ جنوری ۱۹۸۱ء کو یونیورسٹی آف امرتسر کے ایک خاص کنونشن میں پروفیسر عبد السلام کو ڈاکٹر آف سائینس کی اعزازی ڈگری عطا کی گئی اس روز سخت سردی تھی۔موسم سرما کا مخصوص سرد روز اور کنونشن حال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اس موقعہ پر ڈاکٹر سلام نے گورنمنٹ کالج لاہور سے اپنے جملہ اساتذہ کو مدعو کیا ہوا تھا اس نے اپنا کنونشن کا خطاب خالص ( ٹھیٹھ ) پنجابی میں پڑھنا شروع کیا۔جس میں ملتانی لہجہ بہت نمایاں تھا حاضرین کنونشن ان کے مسحور کن خطاب سے وجد میں آچکے تھے سامعین نے ان کا ڈیڑھ گھنٹہ کا