مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 127
(۱۲۷) ۱۹۷۲ء میں میں پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ میں اپنی ٹیچنگ پوزیشن میں دوبارہ لوٹ آیا اس وقت ایلی مینٹری پارٹیکل ریسرچ کو بھارت میں آؤٹ آف فیشن سمجھا جاتا تھا میرے شعبہ میں تجرباتی ریسرچ کرنے کیلئے کوئی بھی سہولت نہ تھی پیرس میں اپنے قیام کے دوران میں TIFR بمبئی کے سائنس دانوں سے مستقبل میں مل کر کام کرنے کیلئے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی لیکن وہ میری تجویز میں زیادہ دلچسپی نہ رکھتے تھے اس کے علاوہ جن شہروں میں کوئی قابل ذکر ریسرچ ہو رہی تھی وہ دہلی۔پنجاب۔چندی گڑھ۔میں تھی کافی کوشش اور تگ و دو کے بعد میں چندی گڑھ میں سکیننگ ورک ویک اینڈ پر کرنے میں کامیاب ہو گیا یہ کافی جان جوکھوں والا کام تھا اور میں جلد ہی اس سے تنگ آگیا تھر ڈ ورلڈ میں شریک کار ریسرچ کا تصور بہت عجیب سا لگتا ہے کیونکہ وہاں صرف معدودے چند اعلیٰ ادارے ہیں جیسے صحرا میں کوئی نخلستان۔ان داروں کے سائینس دان خود کو نیم خدا تصور کرتے ہیں کیونکہ ان کے ہاتھوں میں کثیر فنڈز ہوتے ہیں نہر دو سائینس پالیسی کی وجہ سے یو نیورسٹی کے درجہ کی سائینس کی تعلیم پستی میں گرگئی ہاں اس کا (ضمنی فائدہ یہ ہوا کہ ) بھارت میں سائنسی ریسرچ کے نئے مضبوط قلعے تعمیر ہو گئے۔۱۹۷۴ء میں میں نے اس بات میں مصلحت سمجھی کہ اپنی ریسرچ کی فیلڈ کو تبدیل کرلوں تھوڑی سی کوشش اور فنڈز کے مہیا ہونے پر یہ ممکن ہو گیا۔کہ میں نیوکلیر جیو فزکس کے میدان عمل میں داخل ہو جاؤں مائیکرو اسکوپی کی فیلڈ میں میری ٹریننگ اب کی بار آڑے آئی اور میں نے پتھروں اور معدنیات کی فشن ٹریک ٹیٹنگ کا کام شروع کر دیا اکتوبر ۱۹۷۷ء میں آئی سی ٹی پی (ٹریسٹ) نے سب سے پہلی ورک شاپ فزکس آف دی ارتھ کے انعقاد کا قائم کیا اور جس میں شرکت کیلئے مجھے دعوت موصول ہو کی تھی یوں میرا تعلق ڈاکٹر عبدالسلام اور ٹریسٹ سے شروع ہوتا ہے۔پنجابی میں بات چیت آئی سی ٹی پی کی پرانی روایت کے مطابق جب کوئی نیا کورس شروع ہوتا ہے تو اسکا ڈائر یکٹر مند و بین کو خطاب کرتا ہے اور مہمان سائینس دانوں کے اعزاز میں کاک نیل پارٹی یا عشائیہ کا انتظام کر تا ہے ایک ایسی ہی مجلس میں میرا تعارف پروفیسر عبد السلام سے کروایا گیا پروفیسر موصوف نے نہایت