مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 108
(۱۰۸) میرا ہاتھ تھام لیا اور کہا آئیے دوسرے کمرے میں چل کر بات کرتے ہیں۔اور مجھے دوسرے کمرے میں لے گئے میرے ساتھ اس وقت سائینسی امور کے وزیر بھی کمرے میں موجود تھے۔جنرل صاحب نے کہا بات یہ ہے کہ میرے پاس علماء کا ایک وفد آیا تھا انہوں نے مجھے بتایا کہ احمدی قرآن مجید میں تحریف کر تے ہیں اس لئے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔اس پر ڈاکٹر سلام نے ان سے عرض کیا کہ قرآن کی حفاظت کا وعدہ تو اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اس لئے احمدی اس میں تحریف کیسے کر سکتے ہیں؟ اس پر وہ اٹھ کر کتابوں کی الماری کی طرف گئے اور تفسیر صغیر اٹھا لائے اور کہا کہ علماء نے ان آیات کی نشاندہی کی ہے جہاں آپ لوگوں نے تحریف سے کام لیا ہے اور ایک نشان زدہ صفحہ کھول کر میرے سامنے کر دیا۔یہ آیت خاتم النبین تھی میں نے جنرل صاحب سے عرض کیا کہ آیت تو مکمل طور پر درج ہے تحریف کہاں ہوئی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ نے آیت کے معنوں میں تحریف کی ہے اور بجائے نبیوں کو ختم کرنے والے کے نبیوں کی مہر ترجمہ کیا ہے اور یہ نا قابل برداشت ہے۔ڈاکٹر صاحب نے مجھے بتایا کہ میں نے جنرل صاحب سے عرض کیا کہ ختم کا لفظ جو یہاں استعمال ہوا ہے وہ پنجابی زبان کا لفظ نہیں ہے بلکہ عربی زبان کا ہے اور اس کے معنی عربی میں مہر کے ہیں لیکن میں اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتا کیا آپ کے پاس کسی اور عالم قرآن کا ترجمہ ہے؟ وہ اٹھے اور علامہ محمد اسد کا انگریزی ترجمہ قرآن اٹھا لائے جو مکہ معظمہ میں شائع ہوا تھا میں نے قرآن مجید کھولا آیت خاتم النبین نکالی تو وہاں بھی ترجمہ Seal of the Prophets لکھا تھا۔جنرل کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا میں نے عرض کیا علامہ اسد تو احمدی نہ تھے پھر ان کا ترجمہ سعودی حکومت کا شائع کردہ ہے کیا انہیں بھی آپ تحریف کا مجرم قرار دیں گے؟ اس پر جرنیل صاحب کہنے لگے بھی میں تو ان پڑھ جرنیل ہوں جو علماء نے مجھے کہا میں نے اسے تسلیم کر لیا۔میں نے عرض کیا جناب بات صرف جرنیلی کی نہیں آپ اس ملک کے صدر بھی ہیں اور بحیثیت صدر مملکت پاکستان کی تمام رعایا کے حقوق کی حفاظت آپ کے فرائض میں شامل ہے یہیں اسلام آباد میں