مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 107 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 107

(۱۰۷) میں انھیں بر وقت نوٹ نہ کر لوں تو یه اهم مضامين ضائع هونيكا احتمال هوتاهی ان کا یہ طریق دن رات جاری رہتا تھا حتی کہ کھانے کی میز پر بھی اچانک وہ اپنی نوٹ بک کھول کر کچھ لکھ لیا کرتے تھے اس کے بعد گفتگو میں دوبارہ شامل ہو جاتے تھے احمدیت سے عشق ڈاکٹر صاحب ( نور اللہ مرقدہ) کو احمدیت سے مجنونانہ عشق تھا اور جماعت کیلئے بہت غیرت رکھتے تھے ۱۹۷۴ء میں جب پاکستان کی قومی اسمبلی نے جماعت کو دائرہ اسلام سے خارج کر نے کی قرارداد پاس کی تو ان دنوں وہ حکومت پاکستان کے سائینسی مشیر تھے اور ان کا درجہ وزیر کے برابر تھا جو نہی ان کے پاس فیصلہ کی خبر پہنچی تو لندن مشن ہاؤس تشریف لائے وہاں چوہدری ظفر اللہ خانصاحب بھی موجود تھے انہوں نے اپنی جیب سے استعفی نکال کو ان کو دکھلایا اور فرمایا میں ایسی حکومت کے ساتھ کیسے تعاون کر سکتا ہوں جس نے ہمیں دائرہ اسلام سے خارج کر دیا ہو۔جنرل ضیاء نے جب اپنا رسوائے زمانہ آرڈی نینس جاری کیا جس میں جماعت کو بہت سے شعائر اسلام کے استعمال سے قانونی طور پر منع کیا گیا تھا تو ڈاکٹر صاحب کو بہت صدمہ پہنچا۔کچھ عرصہ بعد جب خاکسار ان کی خدمت میں حاضر تھا تو میں نے ان سے استفسار کیا کہ کیا اس آرڈی نینس کے جاری ہونے کے بعد ان کی ملاقات جرنیل صاحب سے ہوئی ہے؟ فرمایا ہاں ہوئی ہے اور اس کی روداد یوں ہے: جنرل ضیاء کی طرف سے مجھے ٹریسٹ میں کئی فون آئے کہ میں پاکستان جا کر ان سے ملوں لیکن میں ٹالتا رہا۔بلا خر مجھے کسی وجہ سے پاکستان جانا ہوا۔اس کو اطلاع ہوئی تو ملاقات پر مصر ہو گیا چنانچہ میں ملاقات کیلئے پریذیڈنٹ ہاؤس گیا جہاں بعض اور سائینس دان بھی موجود تھے جنرل صاحب نے باہر آکر میری کار کا دروازہ کھولا اور مجھ سے معانقہ کرنے کے بعد مجھے اپنے ساتھ بیٹھنے کے کمرہ میں لے گئے دوران گفتگو میں نے آرڈی نینس کا ذکر کر کے اس پر اظہار افسوس کیا۔جنرل صاحب نے فوراً