مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 109
(۱۰۹) جماعت احمدیہ کے مربی موجود ہیں آپ کو جو کچھ علماء نے بتلایا تھا آپ کا فرض تھا کہ احمدی علماء کو بھی بلا کر تسلی کر لیتے اور پھر فیصلہ فرماتے۔اس پر جرنیل صاحب نے زور سے کلمہ شہادت پڑھا اور مجھے بھی کلمہ شہادت پڑھنے کو کہا میں نے بھی کلمہ دہرایا تو کہنے لگے : سلام خدا کی قسم میں آپ کو اپنے بہتر سے مسلمان سمجھتا ہوں لیکن کیا کروں علماء سے میں مجبور ہو گیا تھا اور یہ کہہ کر بات کا رخ اور طرف موڑ دیا۔وطن سے محبت ڈاکٹر صاحب کو پاکستان سے شدید محبت تھی میں نے جب برٹش پاسپورٹ حاصل کیا تو ایک روز ناشتہ کی میز پر میں نے ان عرض کیا کہ وہ بھی برٹش پاسپورٹ بنوالیں۔اس طرح سفر میں آسانیاں پیدا ہو جائیں گی اور یہ بھی عرض کیا کہ اگر وہ چاہیں تو میں برٹش پاسپورٹ کے حصول کیلئے ضروری فارم اور کاغذات ان کو لا کر دے دوں۔وہ کچھ دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا:۔امام صا حب میں هرگز پاکستانی شهریت والا پا سپورٹ نھیں چھوڑوں گا مجھے امید هے که بهت جلد مجھے نوبل پرائز مل جائیگا اور میں نھیں چاھتا کہ یہ اعزاز کسی اور ملک کے کھا نے میں جائے میں پاکستانی رھوں گا خواہ مجھے سفر میں کتنی بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے چنانچه اپنی وفات تک انھوں نے برطانوی شهریت حا صل نه کی جس کا انھیں حق تھا۔اپنے والدین سے ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی عقیدت و محبت مثالی تھی اور یوں لگتا تھا گویا انہیں اپنے والدین سے والہانہ عشق ہے۔جب ان کے والد صاحب کی وفات ہوئی تو وہ غم سے نڈھال ہو گئے اور لندن اپنے مکان کے کمرہ میں غم سے نڈھال تنہائی میں وقت گزار نے لگے کچھ عرصہ بعد مسز سلام کا چوہدری صاحب کو فون آیا کہ آکر ڈاکٹر صاحب کو سمجھائیں۔چوہدری صاحب مجھے ساتھ لے کر ان کے