مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 99 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 99

(44) سے قلم نکالا جس کی سیاہی کچھ نکل گئی تھی اس نے فالتو سیا ہی بلا تکلف اپنے سر کے بالوں میں جذب کر دی میں نے جب کچھ حیرانی کا اظہار کیا تو اس نے کہا بھئی اس میں کیا حرج ہے سیا ہی بھی کالی ہے اور سر کے بال بھی ، کوئی نقصان نہیں ہوا۔کیمبرج سے واپسی پر وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں لیکچرار مقرر ہوا، میں ایک دفعہ کالج گیا تو اس سے سٹاف روم میں ملاقات ہوئی کہنے لگا۔کہ میرا بہت سا وقت محکمہ تعلیمات کے فضول اعتراضات کا جوابات دینے میں گزر جاتا ہے اور ساتھ ہی مجھے نابلد کو زبر دستی کالج کی فٹبال ٹیم کا نگران مقرر کر دیا گیا ہے۔ان حالات میں کوئی ٹھوس کام نہیں کر سکتا۔سوچتا ہوں کہ دوبارہ کیمبرج جا کر تحقیق کا کام کروں چنا نچہ وہ واپس کیمبرج چلا گیا اور ریسرچ کا وہ کام صرف چند ماہ میں مکمل کر لیا جو دوسرے برسوں میں کر پاتے۔۱۹۶۵ء میں مجھے مسٹر سٹیفن Stephen نے کیمبرج مدعو کیا جہاں کنگز کالج میں وہ ڈان تھے وہ ہندوستان میں اخبار سٹیسمین Statesman کے ایڈیٹر رہ چکے تھے اور ایک کتاب پاکستان کے متعلق بھی لکھ چکے تھے انہوں نے ذکر کیا کہ پاکستان سے ایک شخص یہاں آیا ہوا ہے جس کے متعلق کیمبرج کے اسا تذہ سمجھتے ہیں کہ وہ سائینس کی دنیا میں ایک ممتاز مقام حاصل کرے گا۔اس کا نام عبد السلام ہے اور وہ تمام وقت اپنی دھن میں لگا رہتا ہے۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کیمبرج کے اساتذہ کی یہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔کار سٹارٹ کرنیکا طریقہ عبد السلام کو ۱۹۵۷ء میں امپیرئیل کالج آف سائینس اینڈ ٹیکنا لوجی میں فزکس کے شعبے کا سربراہ بنا دیا گیا۔اس وقت اس کی عمر اس برس کی تھی اور اتنی کم عمر میں آج تک کسی اور کو یہ اعزاز حاصل نہ ہوا تھا۔اس طرح انہوں نے لندن کے پیٹنی نامی علاقے میں ایک معمولی سے مکان B-Campion Road میں رہائش اختیار کرلی اور آخر دم تک اسی گھر میں مقیم رہے۔۱۹۵۸ء میں میری اہلیہ کو چھوٹے بچے کے علاج کے سلسلہ میں چند ہفتے کیلئے لندن قیام کرنا ہوا۔میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ کیا وہ دونوں