مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 100
(100) ان کے ہاں قیام کر سکتے ہیں؟ welcome انہوں نے جواب دیا۔ار آلے وی کوئی پچھن والی گل اے they would be most پھر ایک مرتبہ میرا چھوٹا بھائی اور میں صبح کے وقت ڈاکٹر صاحب کے گھر گئے ڈاکٹر صاحب نے قدرے پریشانی کے عالم میں بتلایا کہ انہیں کالج پہنچنا ہے اور ان کی کار کی بیٹری کمزور ہونے کی وجہ سے سٹارٹ نہیں ہو رہی۔میرے بھائی نے کہا کہ اگر صرف یہ بات ہے تو لازماً دھکا لگانے سے ضرور سٹارٹ ہو جائیگی۔ڈاکٹر صاحب بہت حیران ہوئے اور کہا کہ کیا واقعی اس طرح کار سٹارٹ کی جاسکتی ہے۔میرا بھائی کار میں بیٹھا اور ڈاکٹر صاحب اور میں نے دھکا لگایا اور یوں کار سٹارٹ ہو گئی اور یہ مشکل حل ہوگئی۔اس طرح ہم پر یہ راز کھلا کہ یہ ضروری نہیں کہ ایک عظیم سائینسدان روزمرہ کے معمولی ٹوٹکوں سے بھی واقفیت رکھتا ہو۔ڈاکٹر سلام کا رہن سہن بہت سادہ ہوتا تھا اور گھر میں بیوی بچوں سے ٹھیٹھ پنجابی بولتے تھے ان کے کمرے میں ایک معمولی سا بستر بچھا ہوتا تھا اور ہر طرف کتابیں بکھری ہوتی تھیں۔سائینس کے علاوہ انہیں انگریزی۔فارسی۔اردو اور پنجابی ادب سے بھی گہری واقفیت تھی ہزاروں اشعار ازبر تھے اور موسیقی کے رموز سے بھی آشنا تھے۔مختلف مذاہب اور مکاتیب فکر کا گہرہ مطالعہ تھا اور وہ یہ بات کہتے ہوئے بھی نہ تھکتے تھے کہ قرآن کریم قوانین اور عبادات کی نسبت تحصیل علم - تفکر۔اور تحقیق پر کہیں زیادہ زور دیتا ہے گویا کہا جا سکتا ہے کہ اس انتہائی ذہین و فطین شخص کا مزاج فلسفی۔درویشوں جیسا دل۔حساس ادیبوں اور شاعروں جیسا۔اور دماغ ایک بلند نگاہ اور مہم جو سائینسدان کا سا تھا۔ٹرسٹ کا قیام وہ ہر قسم کے تعصب سے آزاد تھے اور تنگ نظری کی ہر شکل کو غلط قرار دیتے تھے ہر معاملہ میں بنی نوع انسان کی بہتری ان کے پیش نظر ہوتی تھی۔باایں ہمہ ان کے دل میں اسلامی دنیا اور خاص طور پر اپنے وطن پاکستان کیلئے سچی تڑپ تھی۔اور یہی وجہ تھی کہ با وجود کثیر العیال ہونے اور محدود وسائل رکھنے کے انہوں نے لاکھوں ڈالر کے ملنے والے انعامات میں سے کچھ بھی اپنے پاس نہ رکھا اور ان تمام رقوم