مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 64
(۶۴) ڈاکٹر عبد السلام کے بر طانوی پروفیسر سر فریڈرک ہوئیل کے تاثرات کے سر فریڈ ہوئیل Sir Fred Hoyle کا شمار بیسویں صدی کے جلیل القدر اسٹرانو مرز میں کیا جاتا ہے۔انہوں نے سب سے پہلے بگ بینگ کی سائینسی اصطلاح سے دنیا کو متعارف کیا۔ان کا نام سائینس فکشن رائٹر کی حیثیت سے بھی مغربی ممالک میں زبان زد عام ہے۔ان کے بعض خیالات سائینسدانوں کی عام روش سے ہٹ کر بہت عجیب و غریب قسم کے تھے مثلا ۱۹۹۰ء میں ان کا ایک مضمون شہرہ آفاق رسالہ نیچر میں شائع ہوا جس کے مطابق سورج کے اندرسن سپاٹس کی وجہ سے زمین پر انفلوئنزا کی وبا گا ہے بگا ہے پھیلتی ہے۔ان کا یقین تھا کہ پیس مختلف قسم کی وائرسز سے بھری پڑی ہے۔جو سن سپاٹس un Spots کی وجہ سے زمین پر پہنچ جاتی ہیں۔۱۹۵۸ء میں انہوں نے یہ انوکھا اور حیران کن دعوی کیا کہ انسانی جسم کے اندر جو ہیوی کیمکل ایلی منٹ جیسے آکسیجن، کاربن ، اور آئرن موجود ہیں وہ دیو قامت ستاروں کے پھٹنے سے زمین پر آئے تھے گویا ہم لوگ ستاروں کی خاک stardust سے بنے ہیں نہ کی زمینی مٹی سے۔زندگی کے آخری ایام تک وہ کائینات کی سٹیڈی سٹیٹ تھیوری کے قائل رہے جس کے مطابق کائینات کا کوئی معین نقطہ آغاز نہ تھا۔ان کی مقبول عام تصنیفات میں سے The Alchemy of Love اور A for Andromeda بہت ممتاز ہیں۔موخر الذکر کتاب پر ٹیلی ویژن سیریز بھی بنائی گئیں۔ان کی خود نوشت داستان زندگی A دلچسپ کتاب ہے۔ان کی پیدائش ۱۹۱۵ء میں یارک شائر میں ہوئی وہ کیمبرج یونیورسٹی کے سینٹ جانز کالج میں عرصہ دراز تک پروفیسر رہے۔۱۹۷۲ء میں انکو سر کا اعلیٰ خطاب دیا گیا ، ان کی وفات ۲۳ اگست ۲۰۰۱ کو برطانیہ میں ہوئی۔✓ ✓ Home where the Wind Blows