مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 28
(۲۸) کے اختتام پر میں نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں ملازمت اختیار کر لی اور مجھے جلد ہی لاہور اٹامک انرجی سینٹر کا ڈائر یکٹر بنا دیا گیا۔ڈاکٹر عبد السلام اس سینٹر میں لندن سے بہ حیثیت چیف سائینٹفک ایڈ وائزر، صدر پاکستان اکثر آیا کرتا تھا۔یہ ذکر اس دور کا ہے (یعنی ۱۹۶۴ء کے لگ بھگ ) جب ڈاکٹر عثمانی نے بہ حیثیت گورنر انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن (وی آنا آسٹریا) اور سلام نے مل کر ایک پلان تیار کیا جو بعد میں انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریکل فزکس کی صورت میں ٹریسٹ (اٹلی) میں منصہ شہود پر آیا۔اس کیلئے اصل صدر مقام لا ہور تجویز ہوا تھا۔مگر حکومت پاکستان کی اس ضمن میں بھاری بھر رقم صرف کرنے میں ہچکچاہٹ اور کوتاہ نظری کے باعث اور ساتھ ہی اطالین حکومت کی فراخدلی کی وجہ سے بلاخر ٹریسٹ میں آئی سی ٹی پی کا صدر مقام قائم ہوا۔اور باقی کی کہانی جیسا کہ کہتے ہیں تاریخ کا حصہ بن گئی ہے۔پھر ۱۹۶۷ء میں خود میں نے یونیورسٹی آف برمنگھم کے شعبہ فزکس میں ملازمت اختیار کر لی اور ۱۹۷۹ء میں جب ڈاکٹر سلام کو نوبل انعام دیا گیا تو میں نے اس کو مبارکباد کا خط روانہ کیا۔جس کے جواب میں اس نے مجھے لکھا: I am sorry your grand uncle is not alive anymore for he would have been proud of me today۔مجھے افسوس ہے کہ آج تمہارے بڑے تایا جان زنده نهیں هیں ورنه آج کے روز وہ مجھ پر بہت نازاں و فرحاں ہوتے۔اس کے بعد سلام سے میرا رابطہ ٹریسٹ میں ۱۹۹۱ میں ہوا۔جب میں آئی سی ٹی پی کے ریڈان ورکشاپ میں فیکلٹی لیکچرار کے طور پر شمولیت کیلئے گیا تھا۔وہاں سلام نے مجھے پیج پر مدعو کیا اور اسکے بعد ایک صبح ناشتہ کے بعد اپنے آفس میں گفتگو کیلئے مدعو کیا۔اس نے میرے سامنے کمیشن آن سائینس اینڈ ٹیکنالوجی ان دی ساؤتھ COMSATS کے اغراض و مقاصد بیان کئے۔کمیشن تھرڈ ورلڈ کے ممالک کے حکومت کے سربراہان پر مشتمل تھا تا سائینس اور ٹیکنالوجی میں انقلاب کے لئے اعلی سطح پر منعم ارادے کا اظہار ہو سکے اور جس کے قیام کیلئے وہ تھرڈ ورلڈ اکیڈیمی آف سائینس کے صدر کی حیثیت سے گزشتہ