مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 29 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 29

· (ra) کئی سالوں سے پوری تندہی سے مصروف عمل تھا۔پاکستانی وزیر اعظم کے نام خط او پر مذکورہ ملاقات میں عبد السلام نے COMSATS کی بنیادی میٹنگ کے پاکستان میں منعقد ہونے اور غیر ضروری التواء کے بارہ میں دل گرفتگی کا اظہار کیا۔کیونکہ اس کی شدید خواہش تھی کہ ایسی میٹنگ پاکستان میں لا زما منعقد ہو۔اس نے مجھے بتلایا کہ وزیر اعظم پاکستان بے نظیر بھٹو نے کمیشن میں شمولیت پر نہ صرف رضامندی اظہار کیا تھا بلکہ ایسی فاؤنڈنگ میٹنگ کے انعقاد کیلئے بھی ارادے کا اظہار کیا تھا۔میمر قبل اس کے کہ ایسا ہو سکتا اس کی حکومت معزول ہو گئی جبکہ نواز شریف کی نئی حکومت اس بارہ میں حیل و حجت سے کام لے رہی تھی۔میں نے اسی لمحہ اسے پیش کش کی کہ مجھ سے اس ضمن میں جو ہو سکا ضرور کروں گا کیونکہ ایک ماہ بعد میں پاکستان سائینس کانفرنس میں شمولیت کے لئے جانے والا تھا میں نے اس سے کہا کہ وہ مجھے ایک عریضہ دے جو صدر پاکستان کے نام ہو۔اور اسکی کاپی وزیر اعظم کے نام ہو میں نے اسے یہ تجویز بھی وی کہ ترغیب کے طور پر وہ اس بات کا اعادہ اس عریضہ میں کرے کہ جس ملک میں فاؤنڈیشن میٹنگ ہوگی وہیں کامسیٹس کا صدر مقام مقرر کیا جائیگا۔سلام نے فوراً دونوں تجاویز کو قبول کر لیا۔ڈاکٹر عبد السلام کے خط سے خود کو لیس کر کے سب سے پہلے میں نے جنوری ۱۹۹۲ء میں صدر پاکستان غلام اسحق خاں سے ملاقات کی مگر صدر محترم کو مائل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ثابت ہوا تا ہم آخر کار انہوں نے اس تجویز سے اتفاق کر ہی لیا اور مجھے ہدایت کی کہ وزیر اعظم سے ملاقات کروں جو کہ اس معاملہ میں فیصلہ کن اتھارٹی تھا۔وزیر اعظم اس وقت بیرون ملک گئے ہوئے تھے مگر میں نے ان کو سوٹزرلینڈ کے شہر ڈیووز DAVOS میں جا پکڑا جہاں یکم فروری ۱۹۹۲ء کو اکنا مک سمٹ ہو رہی تھی۔میں نے نواز شریف کو قائل کر لیا کہ کامسیٹس کی فائنڈنگ میٹنگ پاکستان میں ضرور منعقد ہو بلکہ ان کو عارضی تاریخ پر بھی رضا مند کر لیا یعنی فروری ۱۹۹۳ء۔وزیر اعظم نے آئندہ بننے والے بجٹ میں اس مقصد کے لئے دوملین امریکن ڈالر