مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 27 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 27

(۲۷) سسٹ تھا۔پروفیسر ول کنسن نے بعدہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایکسپیری مینٹل نیوکلیر فزکس کی چیر قبول کر لی۔چنانچہ اس کے تمام شاگرد بھی کیمبرج اس کے تعاقب میں آکسفورڈ پہنچ گئے اسی عرصہ میں سلام نہ صرف رائیل سوسائٹی کا نوجوان ترین فیلو (۳۱ سال کی عمر میں منتخب ہوا ، بلکہ اس کی تعیناتی امپیرئیل کا لج لندن میں بطور پروفیسر آف تھیور ٹیکل فزکس کے بھی ہو گئی۔میرے ایکس ٹرنل ایگزیمینز کے طور پر سلام میرے ساتھ بہت الفت اور رواداری سے پیش آیا۔اور میرے تھیورٹیکل فارمولیشن کیلئے فطری استعداد کو ہائی انرجی فزکس کی فیلڈ میں یہ نظر تحسین دیکھا اور مجھے ہمت دلائی کہ میں اپنے مقالہ کے فٹ نوٹس میں فوٹان بیری اون می سان اور ھائی بر آن جیسے اصطلاحی الفاظ کے روٹس یونانی۔فارسی۔اور سنسکرت زبانوں سے نکال کر پیش کروں۔( مجھے انتہائی افسوس ہے کہ میں اس مشورہ پر عمل درآمد نہ کر سکا )۔صائب الرائے جب میں نے ڈاکٹریٹ مکمل کر لی تو میں نے اپنے کیرئیر میں نیا قدم اٹھانے سے قبل سلام سے مشورہ کرنے کیلئے رجوع کیا۔اس نے مجھے مشورہ دیا کہ چونکہ پاکستان میں اس وقت سائینسی طور پر ایک ہی عملی ادارہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ہے اس لئے میں اس ادارے میں ملازمت حاصل کرلوں۔اس نے مجھے ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی سے متعارف کرنے کی پیش کش کی جو اس وقت کمیشن کا ذہین وفطین چیر مین تھا۔اور جو سلام کا قریبی دوست ہونے کے باعث سلام کے گھر واقع پٹنی میں لندن وزٹ کے دوران ہمیشہ ہی قیام کیا کرتا تھا۔چنانچہ ڈاکٹر عثمانی اگلی بار جب لندن آیا تو سلام نے میرا تعارف اس سے کرا دیا۔یہ ملاقات آکسفورڈ میں ہوئی تھی۔ڈاکٹر عثمانی نے مجھے مشورہ دیا کہ ہائپر آن پر تحقیق سے پاکستان کو کوئی فائدہ نہ ہو گا لہذا مجھے اپنی فیلڈ تبدیل کر کے ری ایکٹر فزکس میں خود کو سپیشلائز کرنا چاہئے میں نے اس مشورہ کے مطابق اگلے تین سال یو کے اٹامک اتھارٹی کے ساتھ Harwell & Winfith کے مقامات پر ریسرچ کا کام کیا۔اس