مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 200
(۲۰۰) صورت حال اور دوسرے ممالک یا افراد کے ساتھ قومی سرحدوں کو نظر انداز کرتے ہوئے تعاون بھی تھا۔ونٹر کالج کے تیسرے ہفتہ میں ایک دو پہر افریقن & LAM ( laser, atomic (molecule network کی میٹنگ منعقد ہوئی۔جس میں داخلہ کھلے عام تھا اس کے سپر وائزر پروفیسر ڈی نارڈو اور سینی گال کے پروفیسر احمد تھے۔مؤخر الذکر پروفیسر لیم نیٹ ورک کے صدر بھی تھے میٹنگ کا آغاز پر وفیسر عبد السلام کی یاد میں تین منٹ کی خموشی سے ہوا۔کیونکہ ان کی رحلت کے بعد لیم کی یہ پہلی میٹنگ تھی۔پروفیسر احمد نے مرکز کی ہر قسم کی مدد کا خاص ذکر کیا۔بلکہ انہوں نے بڑی شفقت سے مجھے بھارت کا لیم کو آرڈی نیٹر مقرر کیا۔اس وقت تو میں طالب علم تھا تا ہم میرا کام فزکس سے متعلق (خاص طور پر آپٹکس ) جملہ مساعی اور پروگرام کا انڈیا میں ہونے والے کام کا ذکر کرنا تھا۔مذکورہ میٹنگ کا انعقاد کسی اور جگہہ ہونے والی میٹنگ کو آئی سی ٹی پی میں وزٹ سے منفرد بنا دیتا ہے۔وہاں میرے پاس وقت بہت محدود تھا میں مرکز کے کام اور اس میں دوسرے اغراض و مقاصد سے از حد متاثر ہوا ہوں۔ونٹر کالج میں شرکت کے علاوہ نظریاتی مرکز میں اور دوسری بھی دیکھنے والی اشیاء ہیں جیسے کہ اس کی شاندار لامپھر میری ، سلام کے آرکائیوز، ایسے افراد سے ملاقات جو مرکز کے روز اول سے ہی اس کی مساعی اور اس کے قیام کے ذمہ دار رہے ہیں۔یادر ہے کہ اس مرکز کے اندر کئی ایک دوسرے بھی سینٹر کام کر رہے ہیں جیسے:۔یو نیورسٹی آف ٹریسٹ کا تھیورٹیکل فزکس کا ڈی پارٹمینٹ انٹر نیشنل سکول آف ایڈوانس سٹڈیز تھرڈ ورلڈا کا ڈمی آف سائینسز ٹریسٹ انٹرنیشنل فاؤنڈیشن فار سائینٹفک پروگریس ٹریسٹ کا شہر گویا ایک سما ٹینس سٹی ہے جس میں یکے بعد دیگرے سینٹرز آف ایکسی لینس کام کر رہے ہیں۔