مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 198
(۱۹۸) اس تقریب کے صدر ڈاکٹر ایچ ایم قاضی نے رواں دواں انگریزی خطاب میں کیا اور کہا کہ سلام کے مرتبہ کے لوگ صدیوں میں کہیں ایک بار پیدا ہوتے ہیں۔سلام کی ذات اس سائینسی وارثت کا اظہار تھا جو مسلمانوں میں صدیوں سے چلی آرہی ہے۔ڈاکٹر سلام نے ایک دفعہ سائینس کی ترقی کیلئے ایک ادارے کے قیام کا خاکہ پیش کیا۔میں ان کے ساتھ تھا۔وہ اس انسٹی ٹیوٹ کو پنجاب میں قائم کرنا چاہتے تھے۔ہم نے سلام کی صدرات میں ایک کمیٹی بنائی جس میں جاپان کو ریا۔اور انڈیا وغیرہ کے پروفیسر بھی شامل تھے۔اس منصوبے کی سمری سیکرٹری ایجوکیشن کے توسط سے بے نظیر زرداری کو بھجوائی گئی۔ان کی طرف سے جواب آیا کہ اس قسم کے دو ادارے قائم کئے جائیں ایک اسلام آباد میں اور دوسراٹھٹھہ میں۔چنا نچہ ٹھٹھہ میں ایک زمین دار سے سینکڑوں ایکڑ زمین بڑے مہنگے داموں پر خریدی گئی۔اس طرح سے اس کام کے لئے ابتدائی رقم زمین خریدنے پر ہی صرف ہو گئی اور منصوبہ خاک میں مل گیا۔ایک دفعہ میں نے ڈاکٹر سلام سے پوچھا کہ بتائیں کہ اس ملک کا مسئلہ کیا ہے؟ کیوں ترقی نہیں ہو پاتی؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے ملک کا سب سے مسئلہ بڑا بدانتظامی ہے اسی وجہ سے یہاں پر سائینس ترقی نہیں کر رہی۔اور سائینس کے ترقی نہ کرنے کی وجہ سے ملک ترقی کی راہ پر نہیں چل رہا۔ڈاکٹر سلام ان لوگوں میں سے تھے جو کہتے تھے کہ ہماری قوم میں تمام صلاحیتیں موجود ہیں۔مگر ان کو استعمال میں لانے والا کوئی نہیں۔سلام تمام سائینسی قوانین قرآن مجید سے اخذ کیا کرتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ قرآن علم حاصل کرنے پر بار بار زور دیتا ہے۔جو قوم اچھی طرح علم حاصل نہیں کرے گی تو تا ہی اس کا مقدر ہوگی۔دنیا میں تبدیلی کا عمل بہت تیز ہے اس پر غالب کا شعر صادق آتا ہے: رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے تھے نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں anis_alam@hotmail۔com✰✰✰