مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 197
(196) برك Weinberg اور تیسرے کا نام سلام ھے۔Salam سلام نے سائینس میں اتنا بلند مقام حاصل کیا کہ جب بھی میں بیرون ملک اس بات کا ذکر کرتا ہوں کہ میرا تعلق پاکستان سے ہے تو لوگ سلام کا ذکر لازما کرتے ہیں۔میں ان کو فخر سے بتاتا ہوں کہ میں نے ان کے ساتھ کام کیا۔لیکن اپنے ملک میں وہ تعصب اور تنگ نظری کا نشانہ بنے۔کوئی ادارہ ان کے نام پر نہیں۔کوئی کتاب ان کے نام پر نہیں۔۱۹۹۲ء میں نواز شریف گورنمنٹ کالج آیا اس نے سارے اولڈ راوین کے نام لئے۔مگر ڈاکٹر سلام کا نام گول کر گیا۔ہر حکمران نے ان سے یہی سلوک کیا۔ایک ڈچ سائینسدان جس کا نام وان لیون ہک Vanteuvenhook تھا اس نے تین سوسال قبل مائیکروسکوپ ایجاد کی۔اس ایجاد کی اس قدر دھوم مچی کہ برطانیہ کی ملکہ اس سے ملاقات کرنے کیلئے ہا لینڈ خود آئی۔یہ انداز ہے ترقی یافتہ ملکوں کا سائینسدانوں کے احترام کا۔اور ہمارے یہاں یہ حال ہے کہ ۱۹۸۷ء میں ڈاکٹر سلام بے نظیر سے ملنے اسلام آباد آئے۔میں اس وقت ان کے ساتھ کمرے میں موجود تھا۔ان کے ایک ساتھی پرائم منسٹر ہاؤس میں بار بار فون کر رہے تھے۔بڑی دیر کے بعد وزیر اعظم کے سیکرٹری کے ساتھ رابطہ ہوا۔انہوں نے جواب دیا کہ بے نظیر کے پاس اس وقت نہیں ہے۔آج بھی نہیں ہے اور کل بھی نہیں ہے۔ڈاکٹر سلام کو اس بات پر بہت افسوس ہوا۔ان کے چہرے پر ایسا دکھ پھیلا کہ میں ان کی طرف دیکھنا برداشت نہ کر سکا اور دوسری طرف دیکھنے لگ گیا۔دیا اس دھرتی میں اور سلام پیدا ہوں گے ؟ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہاں پر سائینس اور علم فروغ پا سکتے ہیں؟ یہ ترقی ہر قسم کے حالات میں نہیں ہو سکتی۔یہ پودہ خاص قسم کے حالات میں ہی پنپ سکتا ہے۔طالبان کو سائینس کی ضرورت نهیں وہ ٹیلی ویژن بناتے ھی نھیں اس کو توڑنے ھیں۔سوال یہ ہے کہ آیا ہمیں کھلا معاشرہ چاہئے یا نہیں؟ ہم نے عقل و خرد کو قبول کرنا ہے یا نہیں؟ یہ وہ فیصلہ ہے جو ہم سب نے کرنا ہے۔ٹھٹھہ میں سائنس سینٹر