مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 11
(11) ٹیلی ویژن نہ ہونا ریاضی اور فزکس جو کہ ان کے پسندیدہ مضامین تھے۔ان میں میری دلچسپی بڑہانے کے لئے ویک اینڈ پر وہ مجھے اپنے ساتھ اکثر امپیرئیل کا لج آف لندن ( لندن یو نیورسٹی کا حصہ ) لے جاتے تھے۔اور جب وہ اپنے ریسرچ کے کام میں مصروف ہوتے تو مجھے اپنے کسی ڈاکٹریٹ سٹوڈنٹ کی نگرانی میں چھوڑ جاتے۔مجھے صحیح معلوم نہیں کہ اس صورت حال میں کون زیادہ نروس ہوتا تھا۔(سٹوڈنٹ یا میں اگر چہ میرا خیال ہے کہ وہ طالب علم ہوتا تھا جس کے کندھوں پر یہ بھاری بوجھ ڈال دیا جاتا تھا ( یہ کام ان بد نصیب طالب علموں کو اس وقت بھی دیا جاتا تھا ) جب آپ امپرئیل کالج سے گرمیوں کی لمبی تعطیلات کی بناء پر ٹریسٹ (اٹلی) میں واقع سائینس سینٹر میں کام کے لئے چلے جاتے تھے۔ٹریسٹ میں بھی دن کا کچھ حصہ کسی طالب علم کے ساتھ گزارتا جو بے چارہ ہر بار خوف سے کانپ جاتا جب اس کا باس پروفیسر اپنے بے ولولہ بیٹے کو اس کے پاس ٹیوایشن کے لئے چھوڑ جاتا تھا۔ایک عرصہ دراز تک ہمارے گھر میں کوئی ٹیلی ویژن سیٹ اس لئے نہ تھا کہ ابا جان ٹیلی ویژن دیکھنے کو وقت کے زباں کی سب سے قطعی مثال سمجھتے تھے۔جو وقت پڑہائی سے بچتا تھا آپ کی ہدایت تھی کہ وہ وقت کتب کے مطالعہ میں صرف کیا جائے۔جس طرح ان کے ابا نے ان سے کتابوں کے مطالعہ کے بعد ان سے خلاصے لکھوائے تھے انہوں نے مجھ سے بھی یہ امید رکھی کہ میں ہر کتاب کے مطالعہ کے بعد اس کا خلاصہ ضبط تحریر میں لاؤں تا زیر نظر موضوع کی سمجھ زیادہ گہرائی سے جان لوں۔اس وقت جب میں طفل مکتب تھا شاید یہ کام بہت محنت طلب محسوس ہوتا تھا جبکہ ہر بچہ کا دل کتابوں کی بجائے کسی اور جگہہ کھیل کود میں انکا ہوتا ہے۔اب میں لوٹ کے ماضی کے دریچوں میں دیکھتا ہوں تو کہتا ہوں کہ فی لواقعہ اس کام اور مشق کی اہمیت اور افادیت واقعی بہت گہری تھی۔علم کی پیاس میرے ابا جان کی علم حاصل کرنے کی نہ سمجھنے والی پیاس کی بہترین مثال کتابوں کا وہ انمول ذخیرہ ہے جو انہوں نے مختلف النوع موضوعات پر اکٹھا کیا ہوا تھا۔آپ کے جملہ مشاغل میں سے ایک