مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 12 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 12

(۱۲) محبوب مشغلہ جس سے وہ حد درجہ لطف اندوز ہوتے تھے وہ بک اسٹوروں میں کتابوں کی تلاش تھا۔لندن کے ارد گرد کے بک اسٹوروں میں آپ کی شخصیت جانی پہچانی تھی۔ایسے نادر مواقع پر میں بھی آپ کے ساتھ جاتا تھا۔جب میں جی بھر کر آپ کی خوشی میں شریک ہوتا تھا یعنی دماغ کو فرحت بخشنے کے لئے نئے موضوعات پر نئی معلومات حاصل کرنا۔ان مواقع پر نہ صرف یہ کہ وقت کی کوئی اہمیت نہ ہوتی تھی (جو کہ خال خال ہی ہوتا تھا ) بلکہ کتابوں کی کل تعداد جو میں خرید سکتا تھا وہ بھی بے معنی ہوتی تھی۔ابا جان کو کوئی بھی فضول خرچ نہیں کہہ سکتا تھا۔فی الحقیقت وہ اپنی ذات پر خرچ کرنے کے بارہ میں بہت تنگ دل واقع ہوئے تھے۔لیکن کوئی ایسا کام یا فعل جس سے انسان علم میں اضافہ کر سکے یا جس سے علم حاصل کرنے کی حوصلہ مندی ہو سکے تو اس صورت میں وہ بہت فیاض واقع ہوئے تھے اس صورت میں خرچ بے دریغ کیا جاتا تھا۔اس امر کا اطلاق سکول کے علاوہ دوسرے مفید مشغلوں جیسے ڈرائیونگ سیکھنا۔ٹائپنگ سیکھنا پر بھی ہوتا تھا۔وہ ہمیشہ نصیحت کیا کرتے تھے کہ دو باتیں ہر انسان کو زندگی میں ضرور سیکھنی چاہئیں ، ایک تو ٹائپنگ اور دوسرے ڈرائیونگ۔بدقسمتی سے یا اس وقت یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کی فیاضی میں میری دل پسند کار خریدنا شامل نہ تھی۔اوائل بلوغت میں ہی میں نے یہ بات جان لی تھی کہ وہ بے سود خیرات hand-ouls دینا پسند نہ کر تے تھے۔جب ایک بار میں نے ان سے اپنی من کی کار خریدنے کیلئے رقم مانگی تو انہوں نے رقم دینے سے صاف انکار کر دیا بلکہ آپ نے کہا کہ اگر میں کار رکھنے کی استطاعت رکھتا ہوں تو پھر مجھ میں رقم کی بچت کر کے خود کا رخریدنے کی بھی استطاعت ہونی چاہئے۔بلآ خر میں نے ایسے ہی کیا اور میں اس بیش بہا نصیحت پر آپ کا شکریہ مناسب رنگ میں کبھی بھی ادا نہیں کر سکتا۔کئی بار ایسا ہوا کہ بجائے اس کے کہ آپ مجھے اپنے ھاؤس آف وزڈم میں بے تکا نا بینا ؤں کی طرح داخل ہونے دیتے اور اپنے مشوروں سے نوازتے۔وہ ایسا کرتے کہ مجھے میرے ذہن کی دہلیز پر لا کر چھوڑ دیتے۔اگر چہ آپ بڑے سخت دبا کر کام لینے والے انسان واقع ہوئے تھے مجھے ہمیشہ اس بات پر اطمینان ہوتا کہ اگر میں لڑ کھڑایا ، یا گرا، تو آپ فورا مجھے دبوچنے کیلئے موجود ہوں گے۔