مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 10 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 10

(۱۰) انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار پوری بے باکی سے کیا وہ ان کی وقت کے زیاں اور کاہلی کے بارہ میں شدید نفرت تھی۔وقت کوئی پانی کی بہتی ندی نہیں۔جس کے کنارے بیٹھ کر ہم اسے بہتا دیکھ کر لطف اندوز ہوتے رہیں۔وقت در حقیقت دنیا کی سب سے زیادہ مہنگی اور قیمت والی جنس ہے۔وقت کے ہر لمحہ کی اہمیت و افادیت کو جاننا اور اس کا مناسب مصرف نکالنا بہت لازمی ہے۔میرے پیارے اب کے والد چوہدری محمد حسین صاحب فی الواقعہ وہ انسان تھے جنہوں نے اپنے فرزند ارجمند میں کام کی اہمیت یعنی work-ethic کی قابل قدر خصوصیات پیدا کیں اور پھر زندگی بھر یہ خصوصیات ان پر محیط رہیں تا آنکہ وہ آسمان کو چھونے والی غیر ممکن الحصول کامرانیوں سے ہم کنار ہو گئے۔میرے پیارے ابی کی یہ شدید خواہش تھی کہ وہ زندگی کے ہر لمحہ کو مفید رنگ میں استعمال میں لا دیں۔اس خواہش کا دائرہ اثر ہماری پوری فیملی کے ہر فرد پر بھی تھا کہ وہ بیداری کے لمحات کو کیسے مفید رنگ میں مصرف میں لاتا ہے۔ابی کا شمار ہرگز ان لوگوں میں سے نہیں ہوتا تھا جو صبح اٹھ کر شام ڈھلنے کا انتظار کرتے۔یا جو ہر شام کو صبح طلوع ہونے کے انتظار میں بے سود وقت گزار دیتے۔ان کی یہ خواہش اور توقع ہمارے بارہ میں تھی کہ ہم میں سے کبھی کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ ہو۔آپ کی ڈکشنری میں چھٹی کا لفظ تھا ہی نہیں۔خود میرے لئے سکول سے تعطیل کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ پرانے اسباق کو دہراؤں۔یا ان پر نظر ثانی کروں یا پھر کو رس میں دئے ہوئے اگلے سبق کی تیاری پہلے سے کروں۔میں اور میری بہنوں نے ہر روز کا ٹائم ٹیبل بنایا ہو ا تھا۔ہمیں سکول کی پڑھائی کا کام اس کے عین مطابق مکمل کرنا ہوتا تھا۔ہم ابی کے سٹڈی روم میں اکٹھے مل کر مطالعہ کرتے تھے صرف کھانے اور نمازوں کیلئے اس دوران وقفہ ہوتا تھا۔بعض دفعہ ابا جان اگر فون پر کسی سے کانفرنس کر رہے ہوتے جو کہ اکثر ہوتا تھا تو ہماری پوری کوشش ہوتی کہ فون آنے کی وجہ سے ہماری توجہ میں مخل نہ ہو کیونکہ ہمیں بخوبی علم ہوتا تھا کہ انکی آنکھیں ہم سب پر لگی ہوئی ہیں مطمح نظر طے کرنا اور پھر اسکے حصول کی خاطر پوری دلجمعی سے کوشش کرنا اس کے بارہ میں انہوں نے ہمیں مختلف نوع کے موضوعات سے متعارف کرایا تھا۔