مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 187 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 187

(۱۸۷) مانگ کر سرانجام دیا کہ کسی طرح ان کی قوم جدید انگریزی تعلیم سے بہرہ ور ہو سکے۔بلکل اسی عظیم مقصد کی خاطر ایک سو سال بعد سرسید احمد خاں دوبارہ پروفیسر سلام کی صورت میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔جنہیں ایک ہی غم کھائے جاتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے وطن عزیز پاکستان ، امت مسلمہ کے پچاس آزاد ملکوں کو ، اور ایشیا، افریقہ اور لاطینی امیریکہ کے غریب اور پسماندہ۔۔تیسری دنیا کے ترقی پذیر ممالک اور قوموں کے اندر جدید سائینس اور ٹیکنالوجی کو عملا رائج کر کے ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں باوقار مقام دلاسکیں۔مسلمانوں میں سائینس اور مغربی تعلیم کے رواج کیلئے سرسید احمد نے غازی پور میں سائینٹفک سوسائٹی کی بنیاد ۱۸۶۰ء کے لگ بھگ رکھی تھی۔بعد میں اسکا مرکز علی گڑھ منتقل ہو گیا اس کیلئے عمارت خریدی گئی اور پھر اسے انسٹی ٹیوٹ کے نام موسوم کیا گیا، اس عمارت میں ریڈنگ روم، لا ئمبر یری، میوزیم اور لیبارٹری قائم کی گئی تھی بعینہ ڈاکٹر سلام نے قریب ایک سو سال بعد ۱۹۶۴ء میں اٹلی میں سینٹر فار تھیورٹیکل فزکس قائم کیا۔جس کا مقصد تیسری دنیا (خاص طور پر اسلامی دنیا ) میں سائینس کی تعلیم کا فروغ تھا۔سید احمد خاں کو ملکہ برطانیہ وکٹوریہ نے سر کا خطاب ۱۸۸۸ء میں دیا جبکہ سلام کو سر کا خطاب ملکہ ایلز بیتھ نے ۱۹۸۹ء میں دیا۔سرسید بہت سی کتابوں کے مصنف تھے اسی طرح سلام بھی کئی ایک کتابوں کے مصنف تھے۔سرسید کی وفات ۱۸۹۸ء میں ہوئی جبکہ سر سلام کی وفات ۱۹۹۶ء میں ہوئی۔سرسید احمد خاں نے اپنی درسگاہ کے قیام کے ساتھ مذہب اور سائینس کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کر نی کا خواب دیکھا تھا۔عبد السلام کی شخصیت سرسید کے اس خواب کی تعبیر تھی۔سید باشم علی ( سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے علی گڑھ میں پروفیسر عبد السلام کی آمد پر جو صدارتی خطبہ پیش کیا اس میں آپ نے فرمایا: پروفیسر عبد السلام آج جو کام کر رہے ہیں وہ بنیادی طور پر وہی ہے جسے اس یو نیورسٹی کے بانی سرسید نے غیر منقسم ہندوستان کی ایک اقلیتی کمیونٹی کیلئے تقریباً ایک صدی پہلے کیا تھا۔پروفیسر عبد السلام کا